ریحام خان

ریحام خان نے آئندہ شادی سے توبہ کرلی

پاکستان کے پشتون گھرانے سے پیدا ہونے والی بی بی سی کی ”ودر گرل“ ریحام خان نے جونہی عالمی شہرت یافتہ کرکٹر اور پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان سے دوسری شادی کی تو ہر طرف انہی کا چرچہ ہوجانے لگا اگرچہ یہ شادی ایک سال بھی قائم نہ رہی لیکن ریحام نے پاکستان میڈیا میں ہی نہیں۔سیاسی حلقوں میں بھی نمایاں پہچان حاصل کرلی۔ریحام خان کے والد ڈاکٹر نئیر رمضان اور والدہ سیدہ رمضان کا تعلق خیبر پختونخواہ کے شہر مانسہرہ کے گاؤں ”بفا“سے ہے۔یہ 1960 کی بات ہے جب ریحام کے والدین مانسہرہ سے نکلے اور لیبیا جابسے جہاں 3 اپریل 1973 کو ان کے گھر ریحام خان کا جنم ہوا تین بہن بھائیوں میں ریحام سب سے چھوٹی ہیں ان کے دادا غلام نئیر خان کا تعلق درس تدریس سے تھا جبکہ ان کے چچا عبدالحکیم خان سابق گورنر خیبر پختونخواہ اور چیف جسٹس پیشاور ہائی کورٹ رہے ۔بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان بننے سے قبل برطانوی راج میں ان کے نانا شیر بہادر خان شعبہ صحت میں ڈائریکٹر تھے وہ مغربی طرز زندگی سے اس حدتک متاثر تھے کہ بعد ازاں انہوں نے مغربی ممالک میں ہی مستقل سکونت اختیار کرلی ابھی ریحام فرسٹ ائیر میں ہی تھیں کہ ان کے والدین نے ان کی شادی پھوپھی زاد ڈاکٹر اعجاز رحمان سے کردی جن سے ان کے تین بچے اور بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔ڈاکٹر اعجاز لندن میں مقیم تھے شادی کے بعد ریحام خان بھی لندن چلی گئیں۔بارہ سال کی طویل شادی شدہ زندگی کے باوجود دونوں یہ بندھن نبھا نہ سکے۔۔۔طلاق کے بعد ریحام پاکستان واپس آگئیں اور جناح کالج برائے خواتین پیشاور سے بی اے کرنے کے بعد براڈکاسٹ جرنلزم ڈپلومہ حاصل کیا۔صحافت سے انہیں خصوصی دلچسپی تھی ۔اپنے لندن میں قیام کے دوران وہ معروف برطانوی ٹی وی چینل بی بی سی میں موسم کا حال بتایا کرتی تھی اس وجہ سے انہیں ”ودرگرل“ کہا جاتا ہے 2011 میں وہ مستقبل پاکستان آگئیں اور مختلف نیوز چینلز پر بطور اینکر کئی سیاسی رہنماؤں کے انٹرویو کئے اسی دوران ریحام نے عمران خان سے وہ تاریخی انٹرویو بھی کیا جس نے ان کی زندگی ہی بدل ڈالی۔جنوری2015 میں جب ریحام خان عمران خان سے شادی ہوئی تو اس خبر نے سب کوچونکا دیا تھا۔یہ وہ وقت تھا جب عمران خان اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا بیٹھے تھے اور تبدیلی کا نعرہ لگا رہے تھے مگر جو تبدیلی وہ اپنی زندگی میں لے کر آئے انہوں نے تحریک انصاف کے متوالوں کو بھی حیرت زدہ کردیا تاہم انہوں نے نہ صرف ریحام کو بھابھی کی حیثیت سے قبول کرلیا بلکہ انہیں” پاکستان کی بھابھی“ کا خطاب دے دیا لیکن اپنے آغاز کی طرح اس شادی کا انجام بھی چونکا دینے والا تھا صرف نو مہینے بعد اکتوبر 2015 میں دونوں میں طلاق ہوگئی اگرچہ علیحدگی کی کئی وجوہات سامنے آئیں تاہم حتمی وجہ آج بھی ایک راز ہے جسے شاید ریحام خان اپنی نئی آنے والی کتاب میں کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔کپتان کی بہنوں کی ناراضگی عمران خان کی سا کھ کو نقصان پہنچا،ریحام اور عمران کے بعض قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کا آنا جانا برطانوی اخبار میں جمائما کے متعلق من گھرت خبریں شائع ہونا یا پھر ریحام کی جعلی ڈگری کا معمہ۔۔۔فی الحال سب قیاس آرائیاں ہیں شادی ختم کیا ہوئیں بعض لوگ یہ خیال کرنے لگے کہ ریحام اب سیاست میں آجائیں گی اور عمران خان سے شادی بھی انہوں نے اسی مقصد کے تحت کی تھی۔ریحام کے ایک الگ سیاسی جماعت بنانے اور مسلم لیگ (ن)میں شمولیت اختیار کرنے کی خبریں بھی آتی رہیں لیکن ریحام خان نے صاف کہا کہ وہ سیاست نہیں کریں گی بلکہ اپنی تمام تر توجہ سماجی بھلائی کے کاموں مکی طرف مبذول رکھیں گی اس مقصد کے تحت انہوں نے”،ماشون“ کے نام سے ایک ادارہ بھی کھول رکھا تھا جس کا مقصد بے گھر بچوں کی مدد کرنا اور ان کو بنیادی تعلیم سے آراستہ کرنا ہے۔ریحام کا کہنا ہے”پاکستان میں دو کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں بالخصوص خیبر پختونخواہ کے بچوں کو تعلیم کے حصول کے لئے بے حد مشکلات کا سامنا ہے ریحام خان نے تعلیم ہی کے موضوع پر ایک فلم”جانان“بھی پروڈیوس کی ہے اور آج کل وہ ایک نئی فلم کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

اب شادی نہیں کروں گی: جس طرح سیاست دان اپنی سیاست چمکانے کے لیے سیاسی بیان دیتے ہیں ویسے ہی ریحام خان کا بھی شادی کے بارے میں بیان ہمیشہ سے سیاسی رہا ہے اعجاز رحمان سے شادی ٹوٹنے کے بعد بھی وہ کہتی تھیں کہ وہ شادی نہیں کریں گی لیکن پاکستان آتے ہی انہوں نے سیاسی کرکٹر عمران خان کو ایسا اپنے جال میں پھنسایا کہ وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے بدقسمتی سے ریحام خان دوسرے شوہر کے ساتھ بھی نبھا نہ سکیں،کم عمری میں شادی کے حوالے سے پختون روایات کے مطابق ریحام بھی محض اٹھارہ برس کی تھیں جب ان کی شادی ان کے پھوپھی زاد ڈاکٹر اعجاز رحمان سے طے پاگئی جو برطانیہ میں ماہر نفسیات تھے ریحام نے شادی کے بعد تعلیم جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن شوہر نے اجازت نہ دی ،آہستہ آہستہ ان دونوں کے درمیان تلخیاں بڑھتی گئیں اور آخر کار 2006 میں ان کی طلاق ہوگئی،ریحام کے تینوں بچے بیٹا ساحر اور دو بیٹیاں رِدا اور عنائیہ ریحام کے ساتھ ہی رہتے ہیں جب 2013 میں وہ پاکستان آئیں تو انہوں نے میڈیا سے اپنی وابستگی برقرا رکھتے ہوئے پاکستان نیوز چینلز کا رخ کیا اور مختلف چینلز پر اہم شخصیات پر انٹرویو کرنے لگی کہا جاتا ہے ریحام بہت عرصے سے عمران خان سے انٹرویو کرنے کی خواہش مند تھی لیکن وہ وقت نہیں دے رہے تھے۔جب مئی 2015 میں انہوں نے بمشکل وقت نکالا تو ریحام کی چمکتی نگاہوں اور کھلتے چہرے کے ایسے اسیر ہوئے کہ ریحام کی شادی کا پرپوزل دے بیٹھے ریحام بھی خان صاحب کی شخصیت سے بہت متاثر تھیں چنانچہ انکار نہ کرسکیں،یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ریحام نے عمران کو شادی کے لئے مجبور کیا تھا ،چنانچہ وہ دونوں طلاق یافتہ بھی ہیں بچوں والے ہیں ا ور ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں اس لئے یہ ایک بہترین قدم ہوگاایک انٹرویو میں ریحام کاکہنا تھا میرا بیٹا ساحر اس شادی کے بالکل حق میں نہیں تھا لیکن جب میاں بیوی راضی تو کیا کریں گا قاضی۔کہا جاتا ہے کہ ریحام خان سیاست میں سرگرم ہونا چاہتی تھی اورعمران خان اس کے حق میں نہیں تھے جس کی وجہ سے ان کے رشتے میں تلخیاں بڑھتی گئیں اور محض نو مہینے کے بعد ہی ان دونوں کے راستے جداہوگئے ریحام اب تک متعدد بار یہ بات کہہ چکی ہیں کہ ”میں توبہ کرتی ہوں اب شادی نہیں کروں گی“ویسے بھی اب میرے بچوں کی شادی کی عمر ہے میری نہیں۔آج کل ریحام خان کی پھر شادی کی افواہیں سرگرم ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ریحام لندن کے ایک بزنس مین سے تیسری شادی کی تیاریوں میں ہیں بظاہر ان کے متوقع تیسرے شوہر کے نام تو سامنے نہیں آیا لیکن بتایا جارہا ہے کہ اس بزنس مین کی یہ دوسری شادی ہے اور ان کے بچے بھی ہیں اور امکان ہے کہ دونوں اسی سال دسمبر میں شادی کرلیں گے۔اب اس بات میں کتنی سچائی ہے یہ تو آنے والا دسمبر ہی بتائے گا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں