Nawaz Sharif

نواز شریف کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا

اسلام آباد (سحر نیوز) : احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف (Nawaz Sharif) کے خلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں بری کر دیا گیا ہے جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں سزا سنائی گئی ہے۔جس کے بعد نواز شریف کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ آنے کے بعد انہیں کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا ہے اور نواز شریف اس وقت نیب کی زیر حراست ہیں۔
نواز شریف کو نیب کے اہلکاروں نے تحویل میں لے لیا ہے جس کے بعد دیگر کاروائی مکمل کی جائے گی اور نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں منتقل کیا جائے گا۔ جب کہ ریجنرز اہلکار بھی کمرہ عدالت کے باہر موجود ہیں۔خیال رہے عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف (Nawaz Sharif) کو فلیگ شپ ریفرنس میں بری کر دیا گیا ہے جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں مجرم قرار دیتے ہوئے سات سال قید کی سزا دی گئی اور 25 ملین ڈالرز جُرمانہ عائد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں. سابق وزیراعظم نواز شریف فلیگ شپ ریفرنس میں بری

واضح رہے کہ فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے خود کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ نواز شریف پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ قافلے کی صورت میں احتساب عدالت پہنچے تھے۔ نوازشریف کی آمد کے پیش نظر احتساب عدالت کے باہر سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے تھے ۔ اس موقع پر عدالت کے باہر ن لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد جمع تھی جنہوں نے نواز شریف کے حق میں نعرے بازی کی۔

یہ بھی پڑھیں. شہباز شریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے بلا مقابلہ چیئرمین منتخب

مسلم لیگ ن کے کارکنان نے قائد کی آمد پر خار دار تارین ہٹانے کی کوشش کی اور پولیس کی مداخلت پر پولیس پر پتھراؤ بھی کیا جس پر پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور کارکنان کو منتشر کیا ۔ فیصلہ سننے کے لیے احتساب عدالت روانگی سے قبل لیگی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے نواز شریف (Nawaz Sharif) نے کہا کہ ایمانداری سے ملک اور عوام کی خدمت کی، کرپشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی نہیں کیا، اللہ سے پوری اُمید ہے کہ انصاف ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے کسی قسم کا خوف نہیں ہے ، مجھے اُمید ہے کہ مجھے انصاف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ میرا ضمیر مطمئن ہے اور میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا جس پر مجھے اپنا سرجھکانا پڑے۔ یاد رہے کہ احتساب عدالت نے نواز شریف کے خلاف دائر العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنس کا فیصلہ گذشتہ ہفتے 19 دسمبر کو محفوظ کیا تھا۔ ریفرنسز کا فیصلہ العزیزیہ اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز میں فریقین کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا تھا۔
سابق وزیراعظم نواز شریف (Nawaz Sharif) کے خلاف دائر کیے گئے دونوں ریفرنسز پر 15 ماہ تک کارروائی ہوئی۔ دونوں ریفرنسز پر کُل 183 سماعتیں ہوئیں، العزیزیہ ریفرنس میں 22 جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں 16 گواہان پیش ہوئے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے دونوں ریفرنسز میں ہی اپنی صفائی پیش نہیں کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں