Nawaz Sharif

نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 دسمبر 2018ء) : سابق وزیراعظم نواز شریف (Nawaz Sharif) کے خلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ آج سنایا جائے گا۔ اس موقع پر احتساب عدالت کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ بکتر بند گاڑی بھی احتساب عدالت کے باہر پہنچا دی گئی ہے۔ بکتر بند گاڑی کی احتساب عدالت کے باہر موجودگی پر سوشل میڈیا پر کئی تبصروں کا آغاز ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں. سابق وزیراعظم نواز شریف فلیگ شپ ریفرنس میں بری

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت کے باہر بکتر بند گاڑی کی موجودگی نواز شریف کی ممکنہ گرفتاری کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ عدالتی فیصلے میں نواز شریف کو قید کی سزا سنا دی جائے جس کے بعد انہیں کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کر کے بکتر بند گاڑی میں جیل منتقل کر دیا جائے تاہم اس حوالے سے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف (Nawaz Sharif) کے خلاف دائر ریفرنسز کے فیصلے سے متعلق ابھی سے چہ مگوئیاں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سوالات کیے جا رہے ہیں کہ کیا نواز شریف کو پھر سے سزا ہو گی؟ کیا نواز شریف دوبارہ سے اڈیالہ جیل جائیں گے؟ قانونی ماہرین کے مطابق العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس میں آمدن سے زائد اثاثوں اور بیٹوں کے نام بے نامی جائیداد بنانے کا الزام اگر ثابت ہوا تو سابق وزیراعظم نوازشریف (Nawaz Sharif)
کو زیادہ سے زیادہ 14سال تک قید کی سزا و جُرمانہ ہو گا اور تو اور ان کی جائیداد بھی ضبط کی جا سکتی ہے۔
ایسی صورت میں قائد مسلم لیگ ایک بار پھر اڈیالہ جیل پہنچ جائیں گے۔ اگراحتساب عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ نیب اپنے شواہد سے جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا توقائد ن لیگ نواز شریف ان ریفرنسز سے بری ہوجائیں گے۔ یاد رہے کہ نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اورفلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ 19 دسمبر کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا تھا جو آج دوپہر کو سنایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں