Al azizia reference

نواز شریف جلد رہا ہونے جا رہے

اسلام آباد (سحر نیوز) : سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس (Al azizia reference) کیس کا فیصلہ آیا جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس کیس کی سزا معطل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین نے اُمید ظاہر کی ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ سے معطل ہو جائے گی۔
اس ضمن میں قانونی ماہرین نے دو الگ الگ ریفرنسز میں دو متضاد فیصلوں پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ العزیزیہ ریفرنس (Al azizia reference) میں احتساب عدالت کا فیصلہ ہائی کورٹ سے معطل ہونے کا امکان ہے ۔ فوجداری مقدمات کے ماہر وکیل آفتاب احمد باجوہ نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنس میں شہادتوں کی نوعیت ایک جیسی تھی تو پھر ایک ریفرنس میں بریت کیسے ہوئی ؟ نیب مقدمات میں الزام ثابت ہونے پر عموماً 14سال یا دس سال سے زائد قید کی سزا ملتی ہے اور ملزم کی جائیداد ضبط ہوجاتی ہے لیکن نواز شریف کے مقدمے میں ایسا نہیں ہوا ۔

یہ بھی پڑھیں. عدالتی فیصلے کے بعدٹویٹس کی بہار آگئی ہے، شیخ رشید

آئینی امور کے ماہر سینئر وکیل اے کے ڈوگر نے کہا کہ ایک ریفرنس میں سزا دس سال سے کم ہے اور نیب مقدمات میں دس سال سے کم سزا کی صورت میں ضمانت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف بہت جلد رہا ہوجائیں گے ۔ وکیل شیخ احسن الدین نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف نیب ریفرنسز میں چار بنیادی الزامات عائد کئے گئے تھے جو ثابت نہیں ہوسکے ۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق ایڈیشنل جج مدثر عباسی نے کہا کہ نواز شریف کے معاملے میں اب اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے ایک ہی قانونی نکتہ ہوگا کہ بار ثبوت نیب پر ہے یا ملزم پر۔ اپیل میں اگر اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ بار ثبوت نیب پر ہے تو سزا کا فیصلہ کالعدم ہونے کا قوی امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں