PPP ready to respond

سیاسی پوزیشن چیلنج کرنے پر پیپلز پارٹی جوابی وار کے لیے مکمل تیار

کراچی (سحر نیوز) : پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سندھ میں تبدیلی لانے کی کوشش (PPP ready to respond) اور پیپلز پارٹی کی سیاسی پوزیشن کو چیلنج کرنے پر پیپلز پارٹی نے جوابی وار تیار کر لیا ہے جس کے تحت پیپلز پارٹی نےمرکز ، پنجاب اور بلوچستان میں حکومت کے خلاف بیک ڈور رابطے کرنا شروع کر دئے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے بیک ڈور رابطوں میں ایوان کے اندر تبدیلی لانے کی بات چیت کی ہے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی اور فنکشنل لیگ میں بھی رابطے ہوئے ہیں۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سید شاہ راشدی سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔ معاملات بے ہونے پر ان کی آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کروائی جائے گی۔ یہی نہیں پیپلز پارٹی نے سندھ میں تبدیلی لانے (PPP ready to respond) کی پاکستان تحریک انصاف کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے اپوزیشن سے رابطے کر کے اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینا شروع کر دیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کو اس بات پر اکٹھا کیا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف نے سندھ میں جوڑ توڑ کر کے پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کی تو پھر مرکز اور صوبوں میں جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے اس کے خلاف اپوزیشن مل کر تحریک عدم اعتماد لے کر آئے گی۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس بات پر بھرپور اتفاق کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے کسی بھی سیاسی ایڈونچر کا انہیں بھرپور جواب دیا جائے گا۔ (PPP ready to respond)
دوسری جانب پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی ، جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے ساتھ نہ صرف رابطوں میں ہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے بیس ارکان ان کے ساتھ ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کے پاس 99، پی ٹی آئی کے پاس تیس، ایم کیو ایم کے پاس بیس، جی صی اے کے پاس چودہ، تحریک لبیک کے پاس تین اور ایم ایم اے کے پاس ایک ارکان ہیں۔ اسی طرح سے اپوزیشن کو سادہ اکثریت کے لیے 85 ووٹ درکارہیں۔ (PPP ready to respond)
تحریک لبیک پاکستان اور متحدہ مجلس عمل اپوزیشن اتحاد کاحصہ نہیں ہیں۔ اپوزیشن کو سادہ اکثریت کے لیے 85 ووٹ درکار ہوں گے اس لیے اگرایم ایم اے اورٹی ایل پی بھی پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دے دیں تو اس صورت میں حزب اختلاف کومزید17 ووٹ درکارہوں گے۔ پیپلز پارٹی کے 21 ارکان اسمبلی نے حکومتی رابطہ کاروں کو صاف جواب دے دیا ہے کہ وہ سابق صدر آصف علی زرداری کسے ہرگز بغاوت نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں. پی ٹی آئی رہنمائی نے بلاول بھٹو سے متعلق خطرناک پیشگوئی کر دی

پیپلز پارٹی کے جیالوں کے لیے بغاوت آسان نہیں ہے کیونکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد عدم اعتماد کی تحریک کے لیے رائے شماری خفیہ نہیں ہوگی ۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ سندھ میں تبدیلی لانا اتنا آسان نہیں ہے۔ اگر بہت کوشش کر کے پاکستان تحریک انصاف کو سندھ میں تبدیلی مل بھی جائے تو بھی 17 ووٹ کم ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں