Nawaz Sharif

نواز شریف کی رہائی تُرکوں کی عزت کا معاملہ بن گیا

اسلام آباد (سحر نیوز) وزیراعظم عمران خان کے ترک دورے کے بعد ایک بعد پھر سے این آر او سے متعلق قیاص آرائیاں شروع ہو گئیں کیونکہ نواز شریف (Nawaz Sharif) ترک صدر طیب اردگان کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔اس متعلق گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ احتساب کی رفتار سست نہیں ہونی چاہئیے۔
اگر ترکی بات کریں تو اگر کوئی وکیل بن کر کسی کی بیٹی کی شادی پر دستخط کریں اور وہ ترکوں کی عزت کا معاملہ بن جائے گا کیونکہ نواز شریف نے ترک صدر طیب اردگان کی صاحبزادی کی بیٹی کی شادی میں وکیل بن کر دستخط کیے۔نواز شریف (Nawaz Sharif) نے وہاں ایک باپ بننے کا حق ادا کیا اور طیب اردگان کی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا تو کہیں نہ کہیں طیب اردگان نواز شریف (Nawaz Sharif) کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیں گے ل؛یکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس چیز کا اثر احتساب پر پڑے گا یا این آر او مل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں.نیب نے حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کی تیاریاں شروع کردیں

اس سے قبل بھی تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق وزیراعظم (Nawaz Sharif) نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز ڈپریشن کے مرض کا شکار ہیں۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ترکی سے قبل مریم نواز کافی خوش تھیں۔ انہیں امید تھی کہ طیب اردگان وزیراعظم عمران خان سے نواز شریف کیلئے این آر او حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
تاہم ایسا ممکن نہیں ہوا۔ اسی لیے مریم نوازڈپریشن کا شکار ہو گئی ہیں اور اس مرض کی دوائیں بھی لے رہی ہیں۔عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو یہ اطلاع مل گئی تھی کہ شاید طیب اردگان نواز شریف سے قرابت داری کا واسطہ دے کر عمران خان کو منانے میں کامیاب ہوجائیں کہ وہ ایک این آر او کی سطح پر نواز شریف کو ترکی بھیجنے پر راضی ہو جائیں لیکن عمران خان صاحب نے انکار کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں