world rotating

عورت کے گرد گھومتی ہوئی دنیا

تخلیق کائنات نے نہ جانے کتنی مخلوق پیدا کی لیکن سب سے بہترین مخلوق انسان قرار پایا- لیکن!محض عقل و شعور کے ادراک نے انسان کو مقام اوج بخشا مگر جب یہی انسان اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت سے نابلد ہوتا ہے تو درندے بھی انگشت بداں ہو کر اس کی وحشت سے خوف کھاتے ہیں – یہی انسان جب عروج کی منازل طے کرتا ہے تو احسن تقویم بھی کہلاتا ہے مگر پتھر کے زمانے سے لے کر دور جدید تک دنیا کے کسی بھی معاشرے میں اگر بے بس اور لاچار انسان کو دیکھا گیا تو وہ عورت (world rotating) ہی تھی- عورت کا استحصال ہر معزز اور غیر معزز معاشرے میں بڑھ چڑھ کر ہوا جس کا گواہ عالم ہے۔

ٹیلی وی ڈراموں سے لیکر ٹیوشن سنٹرز، مدارس و درس گاہ کہیں بھی حوا کی بیٹی حرص و ہوس کی جھلستی آگ سے نہ بچ سکی۔ جب سوشل میڈیا کی باری آئی تو انباکس میں ہوس کے بچاریوں نے اس بےبس عورت کو دیوانگی کا مرکز (world rotating) نا ڈالا۔ بات یہاں تک ہی نہ رہی کئی من چلے دیوانوں نے اپنی جنس بھی بدل ڈالی اور آزادی عورت کو خیالوں کی دنیا میں بھی نہ مل پائی۔ شریک غالب کی مردانگی کے جوہر سہہ کر شہود حق تک پہنچنا بھی اسی عورت کی شان ہے۔عشق مجازی کی بھٹیوں میں جھلسے ہوئے دیوانے مقام عبلین تک پہنچے تو منزل مقصود پر پہنچ کر جب پلٹ کر دیکھا تو ایک ہی زینہ نظر آیا وہ عورت ہی تھی۔

وحشت کے قطروں کو پیٹ میں پال کر اولاد جیسے تحفے جنم دینے والی عورت ہے لیکن اس سماج نے اس عورت کو جہاں مقام بخشا وہاں حقارت کی نظروں سے محفوظ بھی نہیں کر سکا۔ غلامی کی زنجیروں میں کہیں قید اور کہیں زندانوں سے جکڑ (world rotating) کر آج بھی اسے محض جنسی خواہشات کا عجائب گھر بنایا گیا۔قلب اسیر وعہد رقص پر بے برگ و بار بدن بھی ناچنے پر مجبور اگر ہوئے تو پیچھے کوئی وفا کی داستان ہی نکلی ۔ کوٹھے گلیاں اور بازار سجے لیکن جب کسی مورخ نے قلم اٹھایا تو لہو کی بوندوں سے ورق لال ہو گئے ۔۔

آنسو کی برسات آنکھوں سے جاری ہوئی کہ مورخ نے صفحہ قرطاس پر جنس کا نام دے کر اپنی آنکھوں کو عیان اسیری مغالب حسن کی لالچ دے دی جیسے بچوں کو لالی پاپ کا جھانسا دیا جاتا ہے۔جب سرمایہ داروں نے خون کی ہولی افغانستان میں کھیلی تو ہزاروں انسانوں کو لقمہ اجل بنایا۔ انسانیت تڑپ رہی تھی۔اس دوران ایک عورت سینہ سپر ہو کر صرف ڈاکٹر کی حیثیت سے میدان میں اتری تو عمر بھر کی قید کا سامنا کرنا پڑا۔ شاید یہی وہ لوگ ہیں جو آج انسانی حقوق کی پاسداری کے علمبردار بنے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں۔عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر حل کروانے میں اپنا کردارادا کریں

عافیہ صدیقی کے سامنے وہ حقیر و کم ظرف ہی نہیں بلکہ وہ معزز معاشروں میں رسوائے زمانہ بھی ہیں۔دنیا کے ہر میدان میں جہاں عورت دکھ و تکلیف برداشت کرتی ہے وہاں سب سے زیادہ سیکسچوئیل وائلنس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی ایک ملک کی بات نہیں اگر پوری دنیا میں سنگین ترین ظلم و جبر ہوتا ہے تو وہ عورت کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ تقریبا ستر فی صد خواتین (world rotating) سیکسچوئیل ہراسمنٹ کا شکار ہیں۔ قوانین موجود ہیں لیکن ذرا سوچیئے کہ قانون حیوانوں پر لاگو نہیں ہوتے بلکہ انسانوں پر نافذ ہوتے ہیں ۔ کیا ہمارے معاشرے میں انسانیت دم توڑ چکی ہے کہ ہر موڑپر ہرگلی میں صرف عورت کے تعاقب میں مرد اپنی مردانگی کے جوہر دکھاتے نظر آتے ہیں۔

نوٹ: کامریڈ عاصمہ بتول طالبہ ہیں اور خواتین کے حقوق پرلکھتی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں