rana sanaullah

لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کی مخبری کس نے )کی اور کون ان کو سپورٹ کر رہا ہے؟rana sanaullah)

rana sanaullah

معروف صحافی و تجزیہ کار مبشر لقمان نے اندر کی کہانی بتا دی

فیصل آباد ( تازہ ترین اخبار۔ 06 جولائی 2019ء) : معروف صحافی و تجزیہ کار مبشر لقمان نے اپنے ویڈیو پیغام میں لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی اندرونی کہانی بیان کر دی۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک عوامی تقریب کے لیے فیصل آباد گیا جہاں میں نے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کی گرفتاری سے متعلق دریافت کیا کیونکہ رانا ثناء اللہ وہاں پر اس وقت ہاٹ ٹاپک تھے۔مجھے کچھ لوگوں نے بتایا کہ ہمیں تو لگتا ہے کہ یہ مخبری پڑی پکی ہے اور یہ مخبری عابد شیر علینے کی ہے ،اُن کا کہنا ہے کہ عابد شیر علی اور رانا ثناء اللہ کے مابین جو دشمنی ہے وہ مثالی دشمنی ہے اور یہاں بچے بچے کو ان کی دشمنی کا علم ہے۔ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی لڑائی کے اندر رانا ثناءاللہ اور عابد شیر علی کی لڑائی کا بہت بڑا ہاتھ ہے کیونکہ عابد شیر علی کو کیپٹن (ر) صفدر سپورٹ کر رہے ہیں جبکہ رانا ثناء اللہ کوحمزہ شہباز کی حمایت حاصل ہے۔

مبشر لقمان نے بتایا کہ پاکستان میں اینٹی نارکوٹکس فورس کے تقریباً 29 مراکز ہیں جو دنیا بھر میں موجود اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر منشیات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس نے کچھ سال قبل ایک بجٹ کی تجویز پیش کی جس میں دوسرے ممالک کی طرح فورس کے اہلکاروں کے لیے باڈی کیمرے خریدنے کی سفارش کی گئی۔ یہ بجٹ کسی بھی کوٹے سے منظور ہو سکتا تھا لیکن نارکوٹکس کنٹرول کے بجٹ کے ذریعے وزارت خزانہ بھیجا گیا۔اُس وقت اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے ، جب اُن کے پاس یہ بجٹ پہنچا تو اُن کو یہ تو سمجھ نہیں آئی کہ باڈی کیمرے کا مطلب کیا ہے لیکن کیونکہ صرف آزمائشی طور پر 15 لاکھ روپے کا بجٹ مانگا تھا لہٰذا اسے منظور کر لیا گیا۔ جس کے بعد یہ باڈی کیمرے خرید لی گئے لیکن چونکہ ان کیمروں کی تعداد بہت کم تھی لہٰذا یہ کیمرے کسی بھی مشن کے انچارج کو ایشو کیے جاتے تھے۔ان کا سائز ایک انچ سے بھی کم سائز کے ہیں، اُن کیمروں میں 32 جی بی کی اسپیس ہوتی ہے جو بلیو ٹوتھ یا وائی فائی کے ذریعے اپنی ریکارڈنگ کیمرہ سرور کو بھیج دیتے ہیں۔ یہ ریکارڈنگ ہائی ڈیفینیشن کی ریزولیوشن پر ریکارڈ کی جاتی ہے۔ افواہ ہے کہ سکھیکھی کے قریب جب اینٹی نارکوٹکس فورس نے رانا ثناء اللہ کیگاڑی پر چھاپہ مارا تو اس ٹیم کے دو اہلکاروں کے پاس باڈی کیمرہ موجود تھے۔جن میں اس پورے واقعہ کی مکمل ریکارڈنگ ہے اور اس ریکارڈنگ کو سرور پر محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اے این ایف کی جانب سے کٹوائی جانے والی ایف آئی آر میں کہا گیا کہ رانا ثناء اللہ نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کی گاڑی کی پچھلی سیٹ کے نیچے نیلے رنگ کے بریف کیس میں منشیات ہیں۔ تو سمجھ جائیں کہ اس بات کا ثبوت کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہوگیا ہے۔اور جب ڈرگز کی شکل میں ملزم کا ثبوت اور اعتراف حاصل ہو جائے تو پھر جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں رہتی، رانا ثناء اللہ کو منشیات کے بین الاقوامی نیٹ کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا ۔ اے این ایف کے مطابق ان کے پاس رانا ثناء اللہ کے خلاف تمام ثبوت موجود ہیں۔ م

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں