maryam nawaz

مریم نواز(maryam nawaz) کی جانب سے پیش کی جانے والی مبینہ ویڈیو کے بقیہ حصے میں کیا ہے ؟

maryam nawaz

ویڈیو کے بقیہ حصے میں کون سی شخصیات ہیں؟ معروف صحافی نے تفصیل بتا دی

اسلام آباد ( تازہ ترین اخبار۔ 08 جولائی 2019ء) : ہفتے کے روز مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو پریس کانفرنس میں میڈیا کے سامنے پیش کی ۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے اس ویڈیو کا بقیہ حصہ اور اس جیسی کئی اور ویڈیوز بھی منظر عام پر لائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جس کے بعد سے ویڈیو کے دوسرے حصے سے متعلق ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔اس ضمن میں معروف صحافی انصار عباسی نے کہا کہ ویڈیو کے دوسرے حصے میں ایک اعلیٰ آئینی عہدہ رکھنے والے، جو کہ اب ریٹائرڈ ہوچکے ہیں اور اتنی ہی اہمیت کے حامل اور اب بھی ریاستی ادارے میں اہم عہدہ رکھتے ہیں، شخص کا نام موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ویڈیو کے دوسرے حصے میں جو نام شامل ہے ، اُن کا تعلق نہ ہی راولپنڈی سے ہے اور نہ ہی آب پارہ سے ہے۔

لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کی مخبری کس نے کی اور کون ان کو سپورٹ کر رہا ہے

مبینہ ویڈیو کے دوسرے حصے میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی باقی ماندہ بات ہے ۔ جس میں وہ مبینہ طور پر یہ تفصیلات بتا رہے ہیں کہ ان پر کس طرح دباؤ ڈال کر نواز شریف کے خلاف فیصلہ لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مبینہ ویڈیو کے دوسرے حصے میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک اس حوالے سے گفتگو کررہے ہیں ، جس کا تجربہ انہیں ایک اہم شخصیت کے دفتر میں کرنا پڑا تھا ۔اور وہ شخصیت اس وقت بھی اس اہم عہدے پر فائز ہیں۔ مذکورہ ویڈیو کے دوسرے حصے میں جو مبینہ ملزم ہے، وہ خاصی اہم شخصیت ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ کس طرح مبینہ طور پر نواز شریف کے خلاف کیس کی نگرانی کی گئی ، اور کیسے اس میں ہدایت دی گئی اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ یاد رہے کہ ہفتے کے روز میڈیا کے سامنے پیش کی جانے والی ویڈیو کے بعد مریم نواز نے دعویٰ کیا تھا جج ارشد ملک نے دباؤ میں آ کر سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فیصلہ کیا جس کا مبینہ طور پر انہوں نے ویڈیو میں بھی اعتراف کیا ہے۔ تاہم احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے اس ویڈیو کو جعلی اور مفروضے کی بنیاد پر بنائی گئی ویڈیو قرار دیتے ہوئے اس ویڈیو سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

مبینہ طور پر یہ تفصیلات بتا رہے ہیں کہ ان پر کس طرح دباؤ ڈال کر نواز شریف کے خلاف فیصلہ لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مبینہ ویڈیو کے دوسرے حصے میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک اس حوالے سے گفتگو کررہے ہیں ، جس کا تجربہ انہیں ایک اہم شخصیت کے دفتر میں کرنا پڑا تھا ۔اور وہ شخصیت اس وقت بھی اس اہم عہدے پر فائز ہیں۔ مذکورہ ویڈیو کے دوسرے حصے میں جو مبینہ ملزم ہے، وہ خاصی اہم شخصیت ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ کس طرح مبینہ طور پر نواز شریف کے خلاف کیس کی نگرانی کی گئی ، اور کیسے اس میں ہدایت دی گئی اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ یاد رہے کہ ہفتے کے روز میڈیا کے سامنے پیش کی جانے والی ویڈیو کے بعد مریم نواز نے دعویٰ کیا تھا جج ارشد ملک نے دباؤ میں آ کر سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فیصلہ کیا جس کا مبینہ طور پر انہوں نے ویڈیو میں بھی اعتراف کیا ہے۔ تاہم احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے اس ویڈیو کو جعلی اور مفروضے کی بنیاد پر بنائی گئی ویڈیو قرار دیتے ہوئے اس ویڈیو سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں