شاہد خاقان عباسی کے ذریعے نواز شریف(Former PM nawaz sharif) کو سمجھوتے پر راضی کرنے کیلے ایک بار پھر ڈیل کے چرچے

Former PM nawaz sharif

ملکی سیاست میں ایک بار پھر ڈیل کے چرچے ہیں۔ ہفتہ دس دن سے خبریں، افواہیں، سرگوشیاں اشاروں کنایوں میں پتہ دے رہی ہیں کہ ’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔‘ نواز شریف(Former PM nawaz sharif) کے جیل میں ہوتے ڈیل کی اطلاعات قطعاً نئی نہیں۔

ماضی قریب اور ماضی بعید میں بھی ایسا ہو چکا ہے۔ آخری ٹھوس کوشش اسی سال جنوری/فروری میں کی گئی تھی جو پایہ تکمیل تک پہنچ بھی جاتی اگر ایک دو معاملات پر نواز شریف اور مریم نواز مزید لچک کا مظاہرہ کر دکھاتے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ گذشتہ سال نواز شریف(Former PM nawaz sharif) اور مریم نواز کی وطن واپسی کے بعد سے شریف خاندان کی طرف سے بھی کچھ مشترکہ دوستوں کے توسط سے پیغامات بھجوائے گئے کہ بات چیت کی جا سکتی ہے لیکن تب احتساب کے شور و غوغا میں بات بن نہ سکی اور عمران خان کی نوزائیدہ حکومت کے لیے اس کا سیاسی و اخلاقی بار اس قدر جلد اٹھانا بھی ممکن نہ تھا۔

لاہور(lahore) کے مشہور کیفے ، کیفے Aylanto میں سر عام شراب نوشی نے نقاب ہو گئی

اس سال میں ڈیل کے لیے البتہ دو سنجیدہ کوششیں کی گئی ہیں۔ ایک جس کا ذکر میں نے پہلے کیا اور ایک جس کا ذکرِ خیر آج کل جاری ہے۔ آپ اسے ڈیل کہیں، این آر او کہیں، بات چیت کہیں یا وسیع تر قومی مفاد، سچ یہی ہے کہ آگ دونوں طرف برابر لگی ہوئی ہے اور بجھانے کو آبِ حیات کی تلاش جاری ہے۔ ہر بار ہونے والی بات چیت میں شہباز شریف کا کردار انتہائی کلیدی رہا ہے۔

غریدہ فاروقی نے اپنے کالم میں لکھا کہ ہر بار کی بات چیت میں کلیدی کردار شہباز شریف کا رہا۔اسی طرح ہر بار کی ناکامی میں بھی نام شہباز شریف کا ہاتھ رہا۔ نواز شریف(Former PM nawaz sharif) تو شہباز شریف پر اعتماد کر لیتے لیکن مریم نواز جماعت کا اور سیاسی وراثت کا خلاء شہباز شریف کے حوالے کرنے پر تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار شہباز شریف نے ایک نیا گُر آزمایا اور اپنے دوست اور نواز شریف کے انتہائی قابلِ اعتماد شاہد خاقان عباسی کے ذریعے نواز شریف کو سمجھوتے پر راضی کرنے کے لیے ایک خط تحریر کروایا۔

شاہد خاقان عباسی کو یہ خط تحریر کرنے کا پیغام دینے میں تین اہم ترین لیگی رہنما سرکردہ تھے جن میں سے ایک کا تعلق لاہور سے ہے۔ وہ کئی بار عمران خان کو انتخابات میں شکست بھی دے چکے ہیں۔ دوسرے رہنما کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اور تیسری اہم رہنما ایک خاتون تھیں جنہیں بیک وقت مریم نواز اور شہباز شریف دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔ شاہد خاقان عباسی چونکہ نواز شریف کے انتہائی قریبی ہیں، نواز شریف(Former PM nawaz sharif) نے وزارت عظمیٰ سے نا اہلی کے بعد خود ان کا نام اگلے وزیر اعظم کے طور پر منتخب کیا، دھیمے مزاج کے مفاہمانہ طبیعت رکھنے والے شاہد خاقان عباسی کو پیغام رسانی کے لیے اسی لیے منتخب کیا گیا کہ نواز شریف کے ساتھ ساتھ مریم نواز بھی اعتماد اور اعتبار کر سکیں۔ایک خبر یہ بھی ہے کہ اس بار کے ڈیل پیکیج میں شہباز شریف کے ساتھ شاہد خاقان عباسی کا نام بھی شامل ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں