مریم نواز وزیراعظم(prime minister) ہوتیں اورجنید صفدر وزیر اعلیٰ پنجاب ہوتے

prime minister

معروف صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم(prime minister) نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کو کس چیز نے اس حال تک پہنچایا ہے؟،زرا نوٹ کریں کہ آصف زرداری کہتے تھے کہ کس میں اتنی ہمت ہے جو مجھے پکڑے۔میرے پاس اتنا پیسہ،اتنی طاقت اور لابنگ ہے،کس میں اتنی ہمت ہے کہ وہ مجھے جیل میں ڈالنے کی جرات کرے۔

لیکن دیکھیں پھر آصف زردرای کو پکڑ لیا گیا۔اسی طرح اگر نواز شریف کی بات کریں تو ان کی گورننس اور شہباز شریف کو بھی چھوڑ دیں۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ نواز شریف کا بہت بڑا ووٹ بنک ہیں،اگر نواز شریف 2018ء کے عام انتخابات جیت جاتے تو مریم نواز وزیراعظم ہوتی اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ جنید صفدر ہوتے۔

کیونکہ اس ملک میں ایک بادشاہت ختم ہی نہیں ہو رہی۔عمران خان صاحب خود کراچی کی ایک سیاسی جماعت میں کہتے تھے کہ یہ زندہ لاشیں ہیں۔ خیال رہے پانامہ پیپرز کے سامنے آنے کے بعد پاکستانی سیاست میں ایک بھونچال آگیا اور اس معاملے کو 2016 میں سپریم کورٹ میں لایا گیا جہاں پر یہ کیس چلتا رہا اور فروری 2017 میں اس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا گیا۔

پاک فوج(pakistan army) کی طرف سے بھارت کو پیغام دے دیا گیا

جو بعد ازاں 20 اپریل کو سنایا گیا جس کے نتیجے میں 2-3 کا فیصلے سامنے آیا اور کیس کے فیصلے کے نتیجے میں جے آئی ٹی بنا دی گئی تھی۔جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹمیں پیش کی تو اس کے بعد 28 جولائی کو 0-5 کا فیصلہ آیا جس میں نواز شریف کو وزارت اعظمیٰ سے نااہل کردیا گیا اور اس رپورٹ کی روشنی میں احتساب عدالتمیں ریفرنس بھیجے گئے جن میں سے ایک ریفرنس ایون فیلڈ ریفرنس تھا جو نواز شریف کے لندن میں موجود اپارٹمنٹس سے متعلق تھا۔

ایون فیلڈ ریفرنس لندن میں شریف خاندان کے فلیٹوں سے متعلق تھا جس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی جب کہ ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایک سال قید کی سزا جرمانے کے ساتھ سنائی گئی تاہم بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں