33 سالہ سعودی خاتون مشاعل الجلود نے عوامی مقامات پر عبایہ(hijab) پہننا ترک کردیا

hijab

سعودی عرب میں حجاب کی پابندی ختم؟ سعودی دارالحکومت ریاض میں بنا حجاب کے گھومنے والی خاتون نے سب
کو حیرت میں مبتلا کر دیا-
سعودی دارالحکومت ریاض میں بنا حجاب کے گھومنے والی خاتون نے سب کو حیرت میں مبتلا کر دیا،
33 سالہ سعودی خاتون مشاعل الجلود نے عوامی مقامات پر عبایہ(hijab) پہننا ترک کردیا، وہ گزشتہ کچھ
عرصے سے عوامی مقامات پر بغیر عبایہ کے ہی سفر کر رہی ہیں . تفصیلات کے مطابق سعودی
عرب میں ان دنوں ایک سعودی خاتون کے کافی چرچے ہیں جنہوں نے سعودی روایات کے برخلاف
بنا حجاب کے اپنی نقل و حرکت جاری رکھی ہوئی ہے .

اس حوالے سے 33 سالہ مشاعل الجلود بتاتی ہیں کہ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے دفتر کے علاوہ ہر جگہ
بغیر حجاب کے ہی سفر کررہی ہیں۔

19 سالہ ملزم نے 29 سالہ لڑکی کو پستول سے ڈرا دھمکا کر زیادتی کا نشانہ بنایا:دُبئی(dubai)

مشاعل الجلود کا کہنا ہے کہ کام کی جگہ پر وہ مجبوراً عبایہ(hijab) پہنتی ہیں ورنہ انہیں نوکری سے نکال دیا جائے گا۔
عوامی مقامات میں بنا حجاب کے نقل و حرکت کرنے کے حوالے سے مشاعل کہتی ہیں کہ اس حوالے
سے واضح قانون نہیں ہے۔ مشاعل کہتی ہیں کہ بنا حجاب کے سرعام گھومنے سے ان کی جان کو بھی
خطرہ ہوسکتا ہے۔ مذہبی انتہاپسندوں کی جانب سے ان پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔

تاہم سعودی ولی عہد کا یہ انٹرویو دیکھنے کے باجود شاپنگ مال کے گارڈز نے انہیں مال میں داخل
ہونے کی اجازت نہیں دی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے خواتین کے لیے عبایہ(hijab)
پہننا لازمی ہے اور یہ پابندی غیر مسلم خواتین پر بھی لاگو ہے۔ سعودی مذہبی پولیس کی جانب سے
اس پابندی پر سختی سے عمل کروایا جاتا ہے۔ تاہم اب کچھ سعودی خواتین نے اس پابندی کو قبول کرنے
اس پر عمل کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں