روس کی خلاء باز نے خلا میں مصنوعی گوشت(artificial meat) بنانے کا کامیاب تجربہ کر لیا

artificial meat

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں خلا میں کیے جانے والے تجربے کے نتیجے
میں خرگوش، مچھلی کے گوشت کی پیداوار تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے کی گئی تھی اور اب اسے
زمین پر فروخت کرنے کا ارادہ ہے۔

ایلف فارم کے سربراہ ڈیڈیئر ٹوبیا نے مصنوعی گوشت(artificial meat) کے تجربے کے لیے خلیات فراہم کیے، اس سے
قبل مصنوعی گوشت سے پہلا برگر ہالینڈ کے سائنسدان نے 2013 میں بنایا تھا۔

اس کی لاگت بہت زیادہ بتائی گئی ہے، اس قسم کا کوئی بھی پروڈکٹ فروخت کے لیے دستیاب نہیں ہوسکا تھا۔

گوشت کے نام کے حوالے سے ابھی بھی بات چیت جاری ہے، لیکن اس مصنوعی گوشت(artificial meat) کو چکھنے
کا کام ہوچکا ہے اور ماہرین کی خواہش ہے کہ جتنا جلد ہوسکے اسے مارکیٹ میں بھیجا جاسکے۔

ایڈولف مودی، ، اقوام متحدہ(united nations) کے باہر احتجاج

کیلی فورنیا کمپنی کے سربراہ جوش ٹیٹرک کے مطابق امید ہے کہ اسے اس سال مارکیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

سی ای او فورک اینڈ گڈی نیا گپتا نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ اسے کس قیمت پر فروخت
کرنا چاہیں گے، جس کے جواب میں ماہرین کا کہنا تھا کہ سپر مارکیٹ کے شیلفوں میں تیار گوشت
کی آمد مناسب قیمتوں میں ہوگی۔

اس حوالے سے متعدد مبصرین کا خیال ہے کہ اس میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت پیش آئے گی
کیونکہ اس شعبے نے 2018 میں مجموعی طور پر 73 ملین ڈالر میں راغب کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں