کراچی(karachi) میں درجنوں ڈکیتیاں کرنے والی خواتین گرفتار کر لی گئیں

karachi

کراچی(karachi) میں 15 سال سے درجنوں ڈکیتیاں کرنے والی خواتین گرفتار کر لی گئیں۔
یہ خواتین گھروں میں صفائی سُتھرائی کے بہانے اپنے مرد ساتھیوں سے مل کر
وارداتیں کیا کرتی تھی۔ اے ایس پی گلشن اقبال معروف عثمان نے اس سلسلے
میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے ماسی مافیا کی تفصیلات بتائی
ہیں۔معروف عثمان نے بتایا کہ ان خواتین نے مردوں کے ساتھ مِل کر 9 رُکنی
ڈکیت گینگ بنا رکھا تھا۔

جو گھروں میں کام کرنے کے بہانے گھروں میں وارداتیں ڈالتی تھیں۔
یہ گینگ پندرہ سالوں سے مختلف نوعیت کی بڑی وارداتیں انجام دیا کرتا تھا۔
ان کے قبضے سے لُوٹا گیا سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق
یہ ملزمان کام کے بہانے مختلف گھروں میں ان عورتوں کو لگواتے تھے
اور ان کے ذریعے گھروں میں وارداتیں کرتے رہے ہیں۔

خاتون صحافیوں(female journalists) کو اسلام آبادجلسے کی رپورٹنگ کے مخالف اقدام

۔ ایس ایچ اوکراچی(karachi) گلشن اقبال غلام نبی آفریدی کے مطابق اس گروہ نے
گلشن اقبال، گلستان جوہر، صفورہ کے علاقوں میں وارداتیں کی ہیں
جبکہ یہ گروہ ملیر، نیو کراچی اور فیڈرل بی ایریا کے علاقوں میں
بھی واراتوں میں ملوث رہا ہے۔

یہ ملزمان اس قدر شاطر تھے کہ زیادہ تر وارداتیں پولیس نفری کے
تبدیل ہونے کے وقت پر کراتے تھے۔ پولیس کے مطابق ملزمان
خواتین کسی بھی گھر میں کام کے بہانے ملازم ہو کر چند ہی دنوں
میں گھر کی تمام معلومات حاصل کرلیتی ہیں۔۔ ملزمان نے کئی وارداتیں گھر
کا دروازہ کھلا دیکھ کر بھی کی ہیں۔ اسٹریٹ کرائم اور دکانوں میں
لوٹ مار کی وارداتیں بھی کیں۔

ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 15سال سے اْن کا گروہ یہ کام کر رہا ہے۔
اے ایس پی کراچی(karachi) گلشن اقبال معروف عثمان کے مطابق گرفتار ملزمان میں شہزاد علی،
نبیل، ضمیر عابد اور جاوید شامل ہیں جبکہ گرفتار خواتین میں روشن بی بی،
گلشن بی بی، فرزانہ بی بی اور فرزانہ رخسار شامل ہیں۔جبکہ دیگر ساتھی
نادرا، اعجاز، شہزاد، نیجو اور علی شیر سنار ابھی تک گرفتار نہیں کیے جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں