مریم نواز(maryam nawaz) کی ضمانت کا عدالتی فیصلہ آ گیا

maryam nawaz

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز(maryam nawaz) کی درخواست ضمانت
پر فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ جسٹس باقر علی نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ
نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی چودھری شوگر ملز کیس میں
درخواست ضمانت پر فیصلہ سنایا۔

جس میں بتایا گیا کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز(maryam nawaz) کی ضمانت منظور ہو گئی۔
عدالت نے مریم نواز کو ایک ایک کروڑ روپے کے دو مچلکے بھی جمع کروانے
کا حکم دیا۔ عدالت نے مریم نواز کا پاسپورٹ جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے انہیں
فوری طور پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔عدالت نے مریم نواز کو ڈپٹی رجسٹرار
لاہو رہائی کورٹ کو پاسپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ پاسپورٹ جمع نہ کروانے کی صورت میں 7 کروڑ روپے
زرضمانت جمع کرنا ہو گا۔ یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے 31 اکتوبر کو مسلم لیگ ن
کی نائب صدر مریم نواز(maryam nawaz) کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کیس
کی سماعت یکم نومبر تک ملتوی کی تھی جس کے بعد یکم نومبر کو کیس کی تاریخ
میں 4 نومبر بروز پیر (یعنی آج ) تک کی توسیع کر دی گئی تھی ۔

قبل ازیں 31 اکتوبر کو لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی
میں 2 رکنی بنچ نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی درخواست ضمانت
پر کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت نیب کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مریم نواز
چودھری شوگر ملز کے جعلی اکاؤنٹس چلانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
نیب قانون کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائی کرسکتا ہے۔

بے نظیر بھٹو قتل کیس سابق صدر پرویز مشرف(pervez musharraf) کی جائیداد ضبطگی کا حکم

قومی احتساب بیورو (نیب) کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان
(ایس ای سی پی) کا دائرہ اختیار محدود ہے، یہ منی لانڈرنگ کے خلاف تحقیقات نہیں کر سکتا۔
ایس ای سی پی کے پاس چودھری شوگر ملز کے خلاف کوئی شکایت نہیں تھی۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل
دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز(maryam nawaz) ایک خاتون ہیں؟ کیا آپ انکار کر سکتے ہیں؟
اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ صرف انفارمیشن دی تھی جس پر
وکیل نیب نے کہا کہ نہیں آپ نے خاتون ہونے پر زور دیا تھا، فریال تالپور
کو خاتون ہونے کی بنیاد پر ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد ہوئی ہے،
فیصلہ موجود ہے۔

تفتیشی افسر نےعدالت کو بتایا کہ مریم نواز اور یوسف عباس کے اکاؤنٹس
میں 23 کروڑ روپے منتقل ہوئے ہیں جس کی انہوں نے کوئی وضاحت
پیش نہیں کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقم فیصل میمن نے دبئی سے بھیجی
تھی جوچودھری شوگر ملز میں منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوئی۔
نیب کے وکیل کے دلائل پر جسٹس باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا
مریم نواز شریف بھی کسی ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں؟ اس پر نیب
کے وکیل نے بتایا کہ مریم نواز نیب کے ایون فیلڈ ریفرنس میں
سزا یافتہ ہیں اور انہیں 7 سال قید کی سزا دی گئی لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ
نے مریم نواز کی سزا معطل کر رکھی ہے۔
جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار اور نیب کے وکلا کے
دلائل سننے کے بعد مریم نواز کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
یاد رہے کہ 8 اگست کو قومی احتساب بیورو نے چودھری شوگر ملز کیس
میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر
سے گرفتار کر کے نیب ہیڈ کوارٹرز منتقل کیا تھا۔ عدالت کی جانب سے
مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں متعدد بار توسیع کی گئی تھی، جس
کے بعد ان کا جوڈیشل ریمانڈ دے دیا گیا۔ مریم نواز 48 دن نیب کی زیر حراست رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں