بجلی(electricity) کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ

electricity

تفصیلات کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب
سے جاری بیان میں بتایا گیا بجلی(electricity) کی قیمت میں ایک ماہ کے لیے 2 روپے 37 پیسے
فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ
کی مد میں کیا گیا ہے۔
ستمبر میں بجلی(electricity) کی پیداواری لاگت 5.21 رہی۔ صارفین سے بجلی کی قیمت
میں کیا جانے والا اضافہ نومبر کے بلوں میں وصول کیا جائے گا۔ بجلی کی
قیمت بڑھنے سے صارفین پر 33 ارب روپے کو بوجھ پڑے گا۔ بجلی کی
قیمت میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہو گا جبکہ ماہانہ
تین سو یونٹ استعمال کرنے والے اور زرعی صارفین بھی بجلی کی قیمت
میں اس اضافے سے مستثنیٰ رہیں گے۔

کراچی(karachi) میں درجنوں ڈکیتیاں کرنے والی خواتین گرفتار کر لی گئیں

نیپرا نے استفسار کیا کہ ستمبر میں فرنس آئل سے مہنگے پاور پلانٹس کیوں
چلائے گئے ؟ جس پر سی پی پی اے حکام نے جواب دیا کہ اگر فرنس آئل
پلانٹس نہ چلاتے تو اضافہ لوڈ شیڈنگ کرنا پڑتی۔ خیال رہے کہ ملک بھر
میں بجلی(electricity) کی قیمت میں کئی مرتبہ اضافہ ہو چکا ہے جس سے عوام پریشانی
کا شکار ہے اور مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہے۔ صرف عوام
ہی نہیں پاک فوج نے بھی بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر حکومت سے
تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
اس حوالے سے معروف صحافی رؤف کلاسرا نے بتایا تھا پاک فوج نے
بجلی کی بڑھتی قیمتوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔بجلی کے بلوں کی
ادائیگی کرنے کے لیے پاک فوج کو بھی اپنے بجٹ سے بڑا حصہ
نکالنا پڑ رہا ہے۔ پاک فوج نے پہلے ہی اپنا بجٹ نہیں بڑھایا تھا اس
لیے بجلی کی بڑھتی قیمتوں پر انہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ۔
پاک آرمی کا مؤقف ہے کہ بجلی کے ریٹس بڑھنے سے ہمارے اوپر
بوجھ بڑھ گیا ہے اور ہمارے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں