نوجوان طالب علم(student) نے لیڈی ٹیچر کے پیار میں مبتلا ہو کر قتل کردیا

student

تفصیلات کے مطابق ایک نوجوان طالب علم(student) کا کہنا ہے کہ فائزہ نامی ٹیچر سکول
میں نئی آئی تھی۔اس نے آہستہ آہستہ مجھے بلانا شروع کر دیا اور بعدازاں خط
بھی بھیجنے شروع کر دئیے۔
خطوط کے ذریعے وہ مجھے بتاتی تھی کہ وہ میرے ساتھ پیار میں مبتلا ہو گئی
ہے۔ٹیچر کی پسندیدگی دییکھتے ہوئے میں نے بھی اس میں دلچسپی لینا شروع کر
د ی۔ہمارے درمیان پیار محبت کا یہ سلسلہ ڈیڑھ ماہ تک چلتا رہا،بعدازاں یہ بات
سکول کے سینئیر اساتذہ کو معلوم ہو گئی اور یوں بات پورے سکول میں پھیل
گئی۔سکول سے چھٹی ہونے کے بعد ہم دونوں اکیلے بیٹھے تھے تو ایک
خاتون ٹیچر نے دیکھ لیا اور معاملہ پرنسیپل تک پہنچ گیا۔

فائزہ کی پرنسپل سے بھی لڑائی ہوئی۔پرنسپل نے اس واقعے کے بعد ہم
دونوں کو سکول سے نکال دیا۔رضوان نامی طالب علم نے کہا کہ ایک روز
مجھے فائزہ کا فون آیا اور اس نے کہا کیا تم میری خاطر پرنسپل کو مار
سکتے ہو؟۔لیکن میں نے پرنسپل کو قتل کرنے سے انکار کر دیا۔تاہم بعد
میں پرنسپل کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا اور میں اس نیت سے پرنسپل
کے گھر میں داخل ہوا اور ان پر چھریوں سے حملہ کر دیا۔

پاکستان آکر قتل نہیں ہونا چاہتا،ذوالفقارعلی بھٹو جونئیر(zulfikar ali bhutto jr)

ملزم کا کہنا ہے کہ میں نے قتل کرتے ہوئے یہ نہیں سوچا تھا کہ میں
پکڑا جاؤں گا۔لیکن واردات کے بعد جب میں بھاگنے لگا تو پاؤں پر چوٹ
لگ گئی اور اس طرح پولیس نے مجھے گرفتار کر لیا۔ملزم کا کہنا ہے
کہ مجھے ٹیچر نے رزلٹ والے دن ملاقات کا لالچ دیا تھا جس پر میرا دل
پگھل گیا۔ملزم نے مزید کہاکہ ہمارے سکول میں ماحول بہت آزاد تھا۔

ملزم نے کہا کہ پرنسپل کو قتل کرنے کا آئیڈیا بھارتی فلموں سے لیا۔
ملزم کا مزید کہنا تھا کہ میں رہا ہونے کے بعد اُسی ٹیچر سے شادی کرنا
چاہتا ہوں،جب کہ اس فائزہ نامی ٹیچر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اس نے
یہ قدم میرے لیے نہیں اٹھایا اگر ایسا کیا ہوتا تو وہ کبھی بھی میرا نام نہ
لیتا۔مجھے نہ تو سکول سے نکالا گیا اور نہ ہی میرا یہاں پر کسی سے
جھگڑا ہوا یہاں تک کہ میرا تو رضوان سے رابطہ بھی ختم ہو گیا تھا۔جب
کہ لڑکی کا کہنا تھا کہ میں اس لڑکے سے کبھی بھی شادی نہیں کروں گی
کیونکہ اس نے مجھے بدنام کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں