یہودی باپ بیٹے کو تضحیک کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف آواز اٹھانے پر مسلمان خاتون(muslim ladie) کے دنیا بھر میں چرچے

muslim ladie

یہودی باپ بیٹے کو تضحیک کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف آواز اٹھانے پر مسلمان
خاتون(muslim ladie) کے دنیا بھر میں چرچے ہورہے ہیَ تفصیلات کے مطابق لندن میں ٹرین پر
سفر کرتے ہوئے کپہ(یہودی ٹوپی) پہننے پر مسیحی مذہبی پیشوا کی جانب سے
ایک باپ اور بیٹے کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا جس پر مسلمان خاتون نے
پادری کو خاموش کروا دیا۔
مسلمان خاتون(muslim ladie) کی شناخت عاصمہ کے نام سے ہوئی ہے۔ خاتون نے کہا کہ
“میں مسلمان ہوں اور میرا عقیدہ مجھے ظلم پر چپ رہنے کی اجازت نہیں دیتا”۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر کے لوگوں نے مسلمان خاتون کو ایوارڈ
سے نوازنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ یہودی باپ بیٹے کومذہبی منافرت سے
بچانے پر عاصمہ شیخ کی بہادری کے چرچے ہورہے ہیں۔
ٹویٹر پرمسلم خاتون(muslim ladie) کے بہادری کوخوب سراہا جا رہا ہے اور لوگ انہیں
خصوصی ایواڈ دینے کی تجاویزدے رہے ہیں۔سوشل میڈیا پردنیا بھر سے
لوگوں کی بڑی تعداد ان کے حق میں پوسٹ کررہی ہے اور ان کی بہادری
کو سراہ رہی ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ”عاصمہ آپ کی اس بہادری اور
یہود خاندان کو نسل پرستانہ جملوںسے بچانے کیلئے آپ کا شکریہ،ایک ایسے
وقت میں جب دنیا میں شدت پسندی بڑھ رہی ہے آپ امید کا دیاہو۔

ورلڈ وائڈ ویب نے ’’کنٹریکٹ فار دی ویب(Contract for the Web)‘‘ لانچ کر دیا

امید ہے دوسرے بھی آپ کی پیروی کریں گے۔
اس حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے عاصمہ نے کہا وہ لوگوں کے جذبات
اور ان کی محبتوں کو دیکھ کر اشکبارہوگئی ہیں۔انہوں نے کہا وہاں موجود
بیشتر لوگ اس شخص کے جملوں کو ناپسند کررہے تھے تاہم انہیں ان کا
مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ یہ سب دیکھ کر چپ رہیں۔ ایک
ماں ہونے اور مسلمان ہونے کے ناطے وہ جانتی ہیںکہ اس طرح کی مذہبی
منافرت کس قدر تکلیف دہ ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں