چوبرجی اور داتادرباردھماکوں(blasts) میں بڑی مماثلت

blasts

چوبرجی اور داتادرباردھماکے(blasts) میں بڑی مماثلت سامنے آ گئی۔ دونو ں واقعات میں
ایک جیسے بال بیرنگ بڑی تعداد میں استعمال کئے گئے۔نجی ٹی وی کی
رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز لاہور میں ہونے والا دھماکہ ماضی کی
ترغیب کاری سے بہت ملتا ہے۔چوبرجی دھماکے اور داتا درباد میں ہونے
والے دھماکوں(blasts) میں بال بیرنگ بڑی تعداد میں استعمال کئے گئے۔
تاہم پولیس اور حساس اداروں کے اہلکار واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں۔
یادرہے لاہور کے علاقے چوبرجی میں گزشتہ روز رکشے کے اندر
دھماکہ ہوا تھا جس کے نیتجے میں 12 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔دھماکہ
اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور تک سنی گئی جبکہ رکشے کی
چھت کئی فٹ اوپر اڑ گئی ۔جبکہ باقی حصے کے پرخچے اڑ گئے ۔
بعد ازاں سی ٹی ڈی ،بم ڈسپوزل اور فرانزک کی ٹیمیں بھی پہنچ گئیں
جنہوں نے موقع سے شواہد جمع کئے ۔

آرمی چیف(army chief) کی مدت ملازمت میں توسیع،اپوزیشن کی اہمیت

پولیس افسروں کے مطابق دھماکے کی نوعیت جاننے کیلئے معلومات اکٹھی
کی جارہی ہیں۔فرانزک ٹیمیوں نے رکشے میں بارودی مواد ہونے کی تصدیق
کر دی ہے۔دھماکے(blasts) میں ایک رکشہ اور تین موٹر سائیکلیں تباہ ہوئیں۔پولیس
ذرائع کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے لوہے کے ٹکڑے اور بال بیرنگ ملے
ہیں۔رکشہ ڈرائیور نے مشکوک شخص کو شیراکوٹ سے رکشے میں بٹھایا۔
مشکوک شخص واش روم کے بہانے سمن آباد موڑ اتر گیا جس کے بعد رکشے
میں دھماکہ ہوا۔بم ڈسپوزل ٹیم کے مطابق اس دھماکے میں ڈیڑھ سے
دو کلو بارودی مواد استعمال ہوا۔جائے وقوع سے مقناطیس بھی برآمد ہوا،
مقناطیس بم کو پلانٹ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔پولیس نے مشکوک
شخص کی تلاش کے لیے ٹیمیں بھی تشکیل دے دی ہیں۔واضح رہے
کہ آج صبح چوبرجی روڈ سمن آباد موڑ کے قریب رکشے میں دھماکہ
ہوا تھا جس سے رکشہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں