پشاور(Peshawar) میں چھٹی جماعت کے بچے کو ہراسگی کا نشانہ بنا ڈالا

Peshawar

تفصیلات کے مطابق 11 سالہ لڑکے کے والد نے بتایا کہ اُن کا بچہ چھٹی
جماعت کا طالبعلم ہے جسے اُس کے ٹیوشن ٹیچر نے پستاخرہ میں لاکرہ
آباد کے علاقہ میں ہراساں کیا۔ پولیس نے بتایا کہ بچے کے والد نے ملزم
کے خلاف مقدمہ درج کر وادیا ہےجس میں انہوں نے بچے کے
ٹیوشن ٹیچر پر اپنے بیٹے کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا۔
ملزم زرعی یونیورسٹی پشاور(Peshawar) کا طالبعلم ہے۔

طلبہ یکجہتی مارچ میں مشال خان(MASHAL khan) کے والد کا نعروں سے استقبال

جو متاثرہ بچے کو اُس کے گھر پڑھانے آتا تھا۔ ایک دن جب گھر میں
کوئی نہیں آیا تھا تب ملزم نے یہ گھناؤنا جُرم کیا۔ اور اپنے ہی شاگرد
کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بنا ڈالا۔ یہی نہیں ، متاثرہ بچے کو بلیک
میل کرنے کے لیے ملزم نے بچے کی ویڈیو ریکارڈ کی اور جنسی
ہراسگی کی اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بھی اپ لوڈ کر دیا۔ پولیس
نے متعلقہ دفعات کے تحت ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
کیس کے تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ملزم کی تلاش جاری ہے۔ ملزم
کو جلد ہی پکڑ کر سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا جائے گا اور متاثرہ
بچے کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس واقعہ کے بعد
بھی والدین نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آج کل کے دور میں
ایک ٹیوشن ٹیچر رکھنا عام بات ہے لیکن اب روحانی اُستاد بھی اس
طرح کے گھناؤنے کاموں میں ملوث ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ کچھ
والدین نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بچے کو ہمیشہ زیر
نگرانی پڑھوانا چاہئیے، تاکہ بچہ آپ کی نظروں کے سامنے ہو اور محفوظ رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں