منشا بم کی سفارش کرانے سے متعلق کیس، کرامت کھوکھر اور ندیم بارا کی معافی قبول،عدالت کا پی ٹی آئی کو دونوں کیخلاف انضباطی کارروائی کا حکم

اسلام آبادسپریم کورٹ آف پاکستا ن نے قبضہ گروپ منشا بم کی سفارش کرانے سے متعلق کیس میں تحریک انصاف کے کرامت کھوکھر اور ندیم عباس بارا کی معافی قبول کر لی اور پی ٹی آئی قیادت کو دونوں رہنماو¿ں کیخلاف انضباطی کارروائی کاحکم دیدیا،کرامت کھوکھراورندیم بارانے آئندہ پولیس پراثراندازنہ ہونے کاوعدہ کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں بنچ نے قبضہ گروپ منشابم کیس کی سماعت کی،پی ٹی آئی کے ملک کرامت کھوکھر اور ندیم عباس بارہ عدالت میں پیش ہو گئے ،کرامت کھوکھر نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی ،پی ٹی آئی ایم این اے نے کہا کہ درخواست کرتا ہوں مجھے معاف کردیا جائے ،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کیا منشا کھوکھر سے آپ کی رشتہ داری ہے ؟کرامت کھوکھر نے کہا کہ جی میری برادری سے ہیں،میں نے اس کے بچے کو چھڑوا کر بڑی غلطی کی معاف کردیں ،چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ نے کل عدالت میں جھوٹ کیوں بولا تھا،پی ٹی آئی کے ایم این اے نے کہا کہ صرف اتنا ہی کہا تھا کہ بچے کی غلطی نہیں تو اسے چھوڑ دو۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ زندگی میں دوبارہ ایسی حرکت مت کیجئے گا،ارکان پارلیمنٹ کی بہت عزت کرتے ہیں منصب کا خیال رکھنا چاہئے ۔
چیف جسٹس پاکستان نے ڈی آئی جی آپریشنز سے استفسار کیا کہ منشا کھوکھر کہاں ہیں ،ڈی جی آپریشنزنے بتایا کہ منشا بم فرار ہو گیا ہے ، ہم نے 6 ٹیمیں بنائی ہیں اورسرگودھا میں اس کے گھر پر چھاپہ مارا ہے،ابھی تک منشا کھوکھر کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی،انٹیلی جنس اداروں سے مدد لی ہے امید ہے جلد گرفتارکرلیں گے ۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ دیکھیں آئندہ ایسانہ ہو،ہم قانون سازوں کااحترام کرتے ہیں،چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پی ٹی آئی دیکھے اس کے رہنما جرائم پیشہ افراد کی حمایت کرتے ہیں،عدالت نے منشا بم اور اس کے بیٹوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیدیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں