چیف جسٹس

اپنے لوگوں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا،چیف جسٹس کا نوٹس،چیف سیکرٹری سندھ طلب

سلام آباد چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات کا ازخودنوٹس لے لیا،عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ اورایڈووکیٹ جنرل کو کل طلب کر لیا،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنے عرصے سے یہ مسئلہ درپیش ہے ،عدالت کو رپورٹس نہیں مسئلے کا حل چاہئے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میں خود تھرجاکر بیٹھ جاﺅں گا،لوگ کہتے ہیں کہ حدود سے تجاوز کر رہا ہوں،اپنے لوگوں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے تھر میں بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی،سندھ حکومت کی جانب سے بچوں کی اموات سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کردی،سیکرٹری ہیلتھ سندھ نے کہا کہ رواں سال 486 بچوں کی اموات ہوچکی ہیں، ہلاک 486 بچوں میں 317 کی عمریں 11 ماہ سے کم تھیں،بچوں کے درمیان کم وقفہ بھی اموات کی وجہ ہے ،ایڈیشنل پراسیکیوٹرسندھ نے کہا کہ کراچی میں بھی یہی حال ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حکومت نے اب تک کیاتدابیر اختیار کی ہیں، مٹھی میں کوئی اچھاہسپتال نہیں ڈاکٹر جانے کو تیار نہیں،تمام اقدامات کاغذی اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے ہیں،اٹاررنی جنرل نے کہا کہ این آئی سی ایچ حکومت نے بنایا تھا سندھ حکومت نے بگاڑ دیا،درو دراز علاقوں میں برتھ رجسٹریشن صرف 20فیصد ہے۔

عدالت نے سندھ حکومت کی بچوں کی اموات سے متعلق رپورٹ مستردکرکے واپس کردی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سندھ حکومت کے احکامات اچھے ہیں تو نتائج کیوں نہیں نکلے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بتائیں خوراک اورپانی کی فراہمی کاذمہ دارکون ہے؟جنگی بنیادوں پرکام کریں،ہمیں دیکھناہے کہ وہاں بچوں کی کیاضروریات ہیں،پانی اورخوراک کے ٹرک بھجوائیں۔

عدالت نے چیف سیکرٹری اورایڈووکیٹ جنرل کو طلب کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کردی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں