Chief Justice retracted notice

چیف جسٹس نے فواد چوہدری کے خلاف نوٹس واپس لے لیا

Chief Justice retracted notice
فواد چوہدری نے کہا کہ نہ کبھی توہین عدالت کی اور نہ کبھی سوچا ہے۔اس وقت بیوروکریسی سے متعلق مسائل پیش آ رہے ہیں۔بیوروکریسی نے حکومت نہیں کرنی آپ نے کرنی ہے۔چیف جسٹس کے ریمارکس
اسلام آباد(سحرنیوز) سپریم کورٹ میں آئی جی اسلام آبادکے تبادلے کی از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس آف پاکستان Chief Justice retracted noticeمیاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری اور اعظم سواتی عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے فواد چوہدری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کس طرح کے طنزیہ بیان دے رہے ہیں۔Chief Justice retracted notice
؟چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے بیان کی ویڈیو عدالت میں چلوا دیتے ہیں۔میرے ساتھ آپ آئین کا آرٹیکل 4 پڑھیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ نہ کبھی توہین عدالت کی اور نہ کبھی سوچا ہے۔اس وقت بیوروکریسی سے متعلق مسائل پیش آ رہے ہیں۔چیف جسٹسChief Justice retracted notice نے ریمارکس دئیے کہ بیوروکریسی نے حکومت نہیں کرنی آپ نے کرنی ہے۔ دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزراء کہتے ہیں کہ عدات کیسے آئی جی کے تبادلے کو روک سکتی ہے۔Chief Justice retracted notice

فواد چوہدری نے کہا میرے جرأت نہیں کہ عدلیہ کے خلاف بات کروں۔حکومت کو تبادلے کا اختیار ہے۔چیف جسٹس نے کہا فون نہ سسننے پر 12 ,12 سال کے بچوں کو اندر کر دیا،فواد چوہدری نے کہا کہ وہ کوئی عام شخص نہیں وفاقی وزیر ہے۔چیف جسٹس Chief Justice retracted noticeنے کہا کہ امن و امان کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔سیکرٹری داخلہ واپس چلے جائیں۔چیف جسٹس نے فواد چوہدری کے خلاف نوٹس واپس لے لیا۔
عدالت نے فواد چوہدری کی وضاحت قبول کر لی۔جب کہ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ میرا بیان سپریم کورٹ سے متعلق نہیں بیوروکریسی سے متعلق تھا۔وزیراعظم ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں ان کے حکم پر عمل در آمد ہو گا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ہر فیصلے پر عمل درآمد ہو گا۔حکومت آئینج کے متعلق چلے گی۔حکومت مستحم ہے اور لوگوں کو عمران خان پر اعتماد ہے۔اس موقع پر فواد چوہدری نے مولانا فضل الرحمن سے متعلق کہا کہ مولانا کو دن میں تارے اور رات کو اسرائیلی طیارے نظر آتے ہیں۔ان کی اے پی سی سے بھی ہوا نکل گئی ہے مزہ نہیں آیا۔Chief Justice retracted notice

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں