اپوزیشن

حکومت مظاہرین کیخلاف طاقت کا استعمال نہ کرے ، عمران خان کا بیان جارحانہ ، وزیراعظم کو ایوان میں آنا چاہیے تھا : اپوزیشن

اسلام آباد (سحر نیوز)سابق وفاقی وزیر ریلوے اور رکن اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے ایوان کو غیر جانبدرانہ انداز میں چلانے پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ہم آپ کا شہبازشریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر بھی شکرگزار ہیں ۔ خواجہ سعد رفیق کا کہناتھا کہ قومی اسمبلی میں آنے سے پہلے غیر رسمی مشورہ ہوا جس دوران یہ بات سامنے آئی کہ اس صورتحال میں کوئی بھی سیاسی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا ، اگر حکومت یقین نہیں کرنا چاہتی تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہناتھا کہ پاکستان میں ایک بحرانی کیفیت ہے ، راستے بند ہیں اور لوگوں کی زندگی مشکل ہو گئی ہے ، کچھ عناصر مذہب کا نام استعمال کرتے ہوئے سکڑوں پر ہیں اور جو وہ لوگ باتیں کر رہے ہیں اور ان کا جو بیانیہ ہے اس کے ساتھ کوئی بھی با شعور شہری اتفاق نہیں کر سکتاہے ۔سعد رفیق نے کہا جس کارڈ کوماضی میں حکومت کیخلاف استعمال کیاگیا وہی کارڈ آج آپ کے خلاف استعمال ہو رہاہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا رویہ جارحانہ تھا اور ہم سمجھتے ہیں کہ حکمران سب کیلئے ہوتاہے اور اس کی حیثیت بات کی ہوتی ہے اس لیے اس کار ویہ جارحانہ نہیں ہونا چاہیے ، وزیراعظم جو کہ وزیر داخلہ بھی ہیں انہیں ایوان میں آنا چاہیے تھا اور اس صورتحال پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا ۔

انہوں نے کہا کہ آج یہ کہہ رہے ہیں کہ راستے اور سڑکیں بند کرنا قومی مفاد میں نہیں ہے جبکہ آض سے کچھ عرصہ قبل آپ بھی جلاو گھیرا و اور سڑکیں بند کرنے کی باتیں کرتے تھے اور کرتے رہے ہیں ، آج اپ کو اپنے بیانیے پر ندامت ہونی چاہیے اور کہنا چاہیے کہ آئندہ ہم ایسا رویہ نہیں اختیار کریں گے ۔ان کا کہناتھا کہ حکومت کے قائدین آج دھرنہ دینے والوں کے پروگراموں میں جارتے رہے ہیں جو کہ اس وقت مذہب کا کارڈ استعمال کر رہے ہیں ، کل تک کون جلاﺅ گھیراو کا کہہ رہا تھا ۔ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ مان جائیں کہ اس رویے سے جمہوریت کو نقصان ہوا اورہم وہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہتے ، پہلے حکمران ملک کے حالات کو دیکھیں اور امن کی صورتحال کو یقینی بنائیں ۔ آپ بار بار کہتے ہیں کہ کنٹینر لے لیں ، ہمارے گلے پڑجائیں ، ہم سے لڑیں ، ہم آپ سے فی الحال لڑنا نہیں چاہتے ۔انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی کہا گیا وہ قومی اداروں کے خلاف ہے اور ناقابل قبول ہے ، اسے مسترد کرتے ہیں اور ہماری حکومت سے استدعا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال سے گریز کرے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں