Azamswati

کسی کی بدمعاشی نہیں چلنے دیں گے ‘اعظم سواتی استعفی دیں. چیف جسٹس

Azamsawati
اسلام آباد(سحر نیوز) چیف جسٹس پاکستان نے وفاقی وزیرسینیٹر اعظم سواتی کا معافی نامہ مسترد کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دینے کا حکم دے دیا ہے. سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں آئی جی اسلام آباد جان محمد کے تبادلے پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت ہوئی. دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم پارلیمنٹ کی بے حد عزت کرتے ہیں لیکن طاقت کا اس طرح استعمال نہیں ہونے دیں گے.
Azamsawati
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب بتائیں آپ نے پرچہ درج کیوں نہیں کیا؟جس پر آئی جی نے جواب دیا کہ میں ملک سے باہر تھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا اس معاملے میں دوسرا پرچہ درج ہوسکتا ہے؟ اگر ہوسکتا ہے تو آج ہی درج کریں، ان کے ساتھ وہ سلوک کریں جو عام شہری کے ساتھ ہوتا ہے یہی رول آف لاء ہے. اس موقع پر متاثرہ خاندان میں عدالت میں پیش ہوا جس نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ میں غریب بندہ ہوں،ظلم ہوا لیکن میں نے پاکستان کے ناطے اعظم سواتی کو معاف کردیا.Azamsawati
جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ نے معاف کردیا تو کریں،ہم تحقیقات کریں گے کسی جرگے کی صلح صفائی کو ہم نہیں مانتے، اعظم سواتی اپنے ظلم کو تسلیم کریں اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں. اس کے ساتھ چیف جسٹس نے مذکورہ معاملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس معاملے پر جے آئی ٹی تشکیل دے رہے ہیں، جے آئی ٹی میں نیب،آئی بی اور ایف آئی اے کے بہترین افسران شامل کریں گے.
چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے میں آرٹیکل 62 ون ایف کا جائزہ بھی لیں گے. مذکورہ مقدمے میں سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے جس پر چیف جسٹس نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ علی ظفر آپ ہر بڑی شخصیت کی طرف سے عدالت میں پیش ہونے آجاتے ہیں، یہ بتائیں کہ آپ کا لائسنس کتنے دنوں کےلیے معطل کروں. آئی جی اسلام آباد جان محمد نے اپنے عہدے پر کام کرنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان حالات میں کام نہیں کرسکتے اس لیے عدالت سے استدعا ہے تبادلے کے احکامات پر عمل کرنے کی اجازت دی جائے.
اس موقع پر متاثرہ خاندان کے سربراہ نیاز محمد نے سپریم کورٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہماری صلح ہوگئی ہے ، غریب آدمی ہوں،ملک کی عزت خراب نہیں کرسکتا. چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس میں ملک کی عزت کی خرابی کا کوئی معاملہ نہیں ،خاندان نے بے شک معاف کردیا ہو،یہ اسٹیٹ کے خلاف جرم ہے، معاملے کی انکوائری کروائیں گے، ایسا فعل ایک طاقتور وزیرنے کیا ہے، جرگے میں ہونے والی صلح صفائی کو نہیں مانتے.Azamsawati
انہوں نے پنجابی میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وڈا آدمی ہے ، غریباں نوں پکڑوا لیا، مار وی پوائی،جیل وی بھجوایا تے فیرآئی جی وی تبدیل کرا دیتا. اعظم سواتی کی طرف سے بیرسٹر علی ظفرعدالت میں پیش ہوئے ، چیف جسٹس نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہر بڑے بندے کے وکیل بن جاتے ہیں ،میں آپ کا لائسنس کینسل کرتاہوں،بتائیں کتنے عرصے کے لیے لائسنس کینسل کروں؟بیرسٹر علی ظفر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ دو ماہ کے لیے کینسل کردیں.Azamsawati
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہر ناجائز کام کرنے والے کی طرف سے آپ پیش ہوجاتے ہیں. وکیل علی ظفر نے کہا کہ اعظم سواتی کو اپنے کیے پر بہت افسوس ہے. چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اعظم سواتی کو افسوس ہے تو عہدے کو چھوڑ دیں،عہدے کی طاقت سے اعظم سواتی نے یہ کام کیا، غریب خاندان پر ظلم کرنے کے بعد پیسے دےکر صلح کرلی، اب انہیں افسوس بھی ہے، ہم معاملے پر جے آئی ٹی بنارہے ہیں.Azamsawati
ایف آئی اے ،نیب اور آئی بی کے افسران پر مشتمل جے آئی ٹی بنائیں گے، اٹارنی جنرل صاحب آج ہی نام دیے جائیں ہم خود افسران منتخب کرینگے. بیرسٹرعلی ظفر نے کہا کہ اعظم سواتی کی صلح ہوچکی ہے اوراسلامی قوانین کے مطابق ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسلامی قوانین اللہ کا تحفہ ہیں، جہاں پر آپ پھنس جاتے ہیں وہاں آپ اسلامی قوانین کو لے آتے ہیں، اسلامی اصول یہ بھی ہے کہ اگر انہیں افسوس ہے تواپنے عہدے سے استعفیٰ دیں ،پارلیمنٹ کا بہت احترام ہے ، کسی وزیر کو اس طرح غریب خاندان کو کچلنے کی اجازت نہیں دینگے.Azamsawati
چیف جسٹس نے اعظم سواتی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک خاندان کی روزی بند کردی، یہ ہے آپ کی دیانت داری، کہتے ہیں تو ابھی 62 ون ایف لگا دیتے ہیں. سپریم کورٹ نے آئی جی کے تبادلے کی معطلی کا حکم واپس لے لیا. چیف جسٹس پاکستان نے متاثرہ بچے سے واقعے کی تفصیل سنی اور کہا کہ یہ مس کنڈکٹ کا کیس ہے، عدالتیں کمزور یا ماڑی نہیں ہیں، کیا یہ وزیر اس ملک کے مالک ہیں.Azamsawati
چیف جسٹس نے کہا کہ ہر کیس میں آئی ایس آئی کو نہیں ڈالنا چاہتا، دیگر متعلقہ اداروں سے انکوائری کرائیں گے. چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد جان محمد کو حکم دیا کہ جھگڑے کے واقعے کی تحقیق کریں اور جو مقدمہ بنتا ہے درج کریں، مجھے یہ آج ہی چاہیے، وزیر کے ساتھ وہی سلوک کریں جو عام آدمی کے ساتھ ہوتا ہے. یاد رہے کہ چند روز قبل وفاقی وزیر اعظم سواتی کے فام ہاﺅس کے ملازمین اور ایک غریب خاندان کے افراد کے درمیان گائے کے فام ہاﺅس میں گھسنے کے تنازع پر جھگڑا ہوا تھا.Azamsawati

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں