Abdullah Gull

عبد اللہ گل نے کیسے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو قاتلوں سے بچایا؟

Abdullah Gull
اسلام آباد (سحرنیوز) :جمیعت علمائے اسلام (س) کے سربراہ کے بعد دفاع کونسل پاکستان کے ایک اور رہنما اور حمید گل کے صاحبزادے عبداللہ گل (Abdullah Gull) پر قاتلانہ حملہ ہوا ۔رپورٹس میں بتایا گیا کہ جنرل ریٹائڑد حمید گل کے بٹے عبداللہ گل پر گذشتہ روز قاتلانہ حملہ ہوا تاہم اس میں ہو خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔نامعلوم حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عبد اللہ گل (Abdullah Gull) کا کہنا ہے کہ وہ اسلام آباد سے اپنی جیب پر آ رہے تھے۔راولپنڈی میں پرانے ائیرپورٹ کے قریب انہیں پیچھا کرنے والی دو گاڑیاں نظر آئیں۔گاڑیوں میں سوار افراد کے پاس ہتھیار تھے۔حملہ آوروں کے عزائم بھانپتے ہوئے انہوں نے جیپ درمیان والی سڑک پر لا کر ون وے روڈ پر ڈال دی۔ (Abdullah Gull)

حملہ آوروں نے ساتھ آٹھ فائر کیے لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ (Abdullah Gull)

یاد رہے کہ اس سے پہلے جمیعت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو انکی رہائش گاہ پر قتل کردیا گیا تھا۔ ۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سمیع الحق کے بیٹے مولانا حامد الحق نے بتایا کہ میرے والد مولانا سمیع الحق نماز عصر کے بعد گھر میں آرام کررہے تھے ۔ جبکہ گن مین اور ڈرائیور باہر گئے ہوئے تھے۔ جب ملازم گھر آئے تو مولانا سمیع الحق اپنے بستر پر خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے۔ (Abdullah Gull)
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ والد کے قتل کی غیرجانبدرانہ تحقیقات کروائی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ مولاناسمیع الحق کا پوسٹمارٹم نہیں کروائیں گے۔جب کہ جنرل ریٹائڑد حمید گل کے بٹے عبداللہ گل (Abdullah Gull) بھی مولانا سمیع الحق کے قتل سے متعلق سن کر اسلام آباد سے راولپنڈی جا رہے تھے کہ ان ہر قاتلانہ حملہ کیا،عبد اللہ گل کا مزید کہنا تھا کہ انہیں پہلے بھی دھمکیاں مل چکی تھیں۔ (Abdullah Gull)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں