فخر نکیال نوجوان رہنما ایڈووکیٹ آصف حنیف کیلوی صاحب نے متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لئے قانونی کارروائی کے لئے خود میدان میں آنے کا فیصلہ کر لیا

فخر نکیال نوجوان رہنما ایڈووکیٹ آصف حنیف کیلوی صاحب نے متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لئے قانونی کارروائی کے لئے خود میدان میں آنے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔۔۔متاثرہ خاندان کو ہر ممکن قانونی مدد کرنے کی یقین دہانی ۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور معصوم بچی درندے صف انسان کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گئی۔۔۔۔نکیال کے نواحی علاقے کریلہ پائیں کی آٹھویں جماعت کی 14 سالہ طالبہ کے ساتھ سکول ٹیچر مجیب الرحمان کی مبینہ زیادتی۔۔ورثاء کو علم ہونے پر بچی نے زہر کھا لیا۔انتہائی تسویشناک حالت میں بچی کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا ۔جہاں میڈیکل کے بعد بچی کو تشویشناک حالت میں کوٹلی ریفر کر دیا گیا۔ایف آئی آر درج۔کاروائی جاری۔۔پھول جیسی معصوم، ہنستی مسکراتی کلی کا انسانی شکل میں بدحواس وحشی درندے کی کھولے عام زیادتی پر ریاست اور ریاست پرست خاموش تماشائ بنے بیٹھے ہیں۔۔۔۔ اپنے اپنے مفادات اور سیاست چمکانے کی خاطر جلسے جلوس نکالنے والے مرده پرست قوم اب کہاں ہیں ۔۔۔۔تمہارے مظاہرے اور تمھاری لانگ مارچ اب کیوں نہیں ہوتی ؟اس لئے کہ اس میں تمہارا کوئی مفاد نہیں۔۔۔۔تم مرده پرست جنازوں پر اکٹھا ہونے والا ہجوم ہو اس سے تمہاری سیاست بھی نہیں چمکے گی۔۔۔۔ ہاں اس کے تمھیں پیسے بھی نہیں ملے گے کیا یہ ابن آدم نہیں؟کیا یہ حوا کی بیٹی نہیں؟ کیا یہ قوم کی بیٹی نہیں؟کیا اس معصوم کلی سے تمہارا کوئی رشتہ نہیں؟ کیا یہ ریاست جموں و کشمیر کی بیٹی نہیں یہاں مظاہره کرتے ہوۓ تمھیں برادری تعلق علاقیت کیوں دیکھنی پڑتی ہے؟ سرینگر کی بیٹی اور جموں کی بیٹی کے لئیے آنسوں بہانے والے یہاں چپ کیوں ہو جاتے ہیں وہ معصوم کلی جو کھلنے سے پہلے مرجھا گئی۔۔۔۔اے کاش کہ میرے اختیار میں ہوتا تو اس بدحواس وحشی درندے کو سرعام لٹکا کر عبرت کا نشان بنا دیتی ، تاکہ پھر کوئی پھول، کوئی کلی نہ مرجھا سکے ہاۓ آج پھر حوا کی بیٹی لٹ گئی۔۔۔۔آج پھر درندگی جیت گئی آج پھر چیخیں نکلی آج بھی ضمیر مردہ ہیں وحشی ابھی بھی زندہ ہے اس ٹیچر کیچڑ کیخلاف بھرپور احتجاج کریں اس نے مکتب درسگاه کی توہین کی ہے اس نے مرد کے بھروسے کی تذلیل کی ہے اس نے عورت ذات کے بھروسے کو خنجر مارے ہیں اس سے پهلے کہ بہنوں کا بھائیوں سے بھروسہ اٹھ جاۓ نکلو اور عورت کو عزت دو عورت کو برابری دو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں