ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کیس میں کسی قسم کی ادائیگی نہیں کروں گا

MDPTV
اسلام آباد(سحر نیوز) سپریم کورٹ نے عطاالحق قاسمی کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تنخواہوں اور مراعات کی مد میں وصول رقم واپس لینے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ تنخواہوں اور مراعات کی مد میں وصول کی گئی رقم عطاالحق قاسمی ،شیخ رشید ،اسحاق ڈار اور فواد حسن فواد سے لی جائے۔تاہم اسحاق ڈا ر کا کہنا ہے کہ وہ کسی قسم کی ادائیگی نہیں کریں گے۔ MDPTV
میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ایم ڈی پی ٹی وی کی تقرری میں وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔وزیراعظم اطلاعات و نشریات اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی توثیق کے بعد اس کی منظوری دیتے ہیں۔ایم ڈی پی ٹی وی کیس میں کسی قسم کی ادائیگی نہیں کروں گا۔انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عطا الحق قاسمی کی تقرری کی منظوری وزیراعظم نے وزیر اطلاعات و نشریات اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی توثیق کے بعد دی۔ MDPTV

اس کے بعد وزارت خزانہ کو ان کی تنخواہ اور مراعات کے لیے سمری بھیجی گئی۔ان کی قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر ان کی تنخواہ ماہانہ پندرہ لاکھ مقرر کی گئی۔مقررہ حد سے زیادہ اخراجات کی صورت میں پی ٹی وی انتظامیہ ہی ان کے لیے جوابدہ ہے۔اپنا موقف 15جولائی کو سپریم کورٹ بھجوایا تھا۔خیال رہے سپریم کورٹ نے پاکستان ٹیلی ویڑن کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر کی تقرری غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عطاالحق قاسمی بطور ایم ڈی لی گئیں مراعات اور تنخواہ کے حقدار نہ تھے۔ MDPTV
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ایم ڈی پی ڈی وی عطاالحق قاسمی کی تقرری سے متعلق ازخود نوٹس کا فیصلہ 12 جولائی 2018 کو محفوظ کیا تھا،جسے جمعرات کو جسٹس عمر عطا بندیال نے پڑھ کر سنایا۔ مختصر فیصلے میں ایم ڈی پی ٹی وی کے تقرر کا ذمہ دار سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید اور سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کو قرار دیا۔
عدالتی فیصلے میں عطاالحق قاسمی کی طرف سے 19 کروڑ 78 لاکھ سے زائد کی لی گئی مراعات اور تنخواہوں میں سے کچھ حصہ پرویز رشید، اسحٰق ڈار اور فواد حسن فواد سے وصول کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عطاالحق قاسمی نے بطور ایم ڈی جو احکامات دیے وہ اور اپنی مدت کے دوران جتنی تنخواہ اور مالی فوائد حاصل کیے سب غیر قانونی ہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عطاالحق قاسمی کسی بھی سرکاری عہدے کیلئے تاحیات نااہل ہوں گے۔ MDPTV
ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے یہ بھی حکم دیا کہ اگر ایم ڈی پی ٹی کا عہدہ خالی ہے تو مستقل طور پر تعیناتی کی جائے۔ بعد ازاں عدالت عظمیٰ کی جانب سے 48 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا گیا، جو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تحریر کیا۔فیصلے کے مطابق عطاالحق قاسمی نے 8 کروڑ 80 لاکھ 46 ہزار 360 روپے تنخواہ وصول کی جبکہ اس کے علاوہ 15 کروڑ 22 لاکھ 92 ہزار 301 روپے دیگر اخراجات کی مد میں استعمال کیے گئے۔ MDPTV
اس کے علاوہ گاڑیوں کی مرمت اور فیول کی مد میں 12 لاکھ 11 ہزار 170 روپے کا استعمال کیا جبکہ اس رقم میں سے ان کی ذاتی گاڑی مرسڈیز ای 200 پر بھی خرچ ہوا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق 14 لاکھ 60 ہزار کمرے کے کرائے کی مد میں خرچ کیے گئے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ عطاالحق قاسمی 19 کروڑ 78 لاکھ 67 ہزار 491 روپے کا نصف جبکہ 20 فیصد رقم پرویز رشید اور اسحٰق ڈار ادا کریں جبکہ 10 فیصد فواد حسن فواد ادا کریں گے۔بعد ازاں عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ معزز جج نے فیصلہ سنایا ہے، اس پر ہمارا اختلاف اور نقطہ نظر ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر وکلا سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کروں گا۔ MDPTV

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں