aasia bibi

وزارت قانون نے آسیہ بی بی کیس کا ریکارڈ اکٹھا کرنا شروع کر دیا

AasiaBibi
اسلام آباد (سحر نیوز) :وزارت قانون نے آسیہ بی بی (AasiaBibi) کیس کا ریکارڈ اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ وزارت قانون نے ریکارڑ کے حصول کے لیے پراسیکیوٹر جنرل آفس پنجاب سے رابطہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آسیہ بی بی (AasiaBibi) کیس سے متعلق اہم خبر سامنے آئی ہے۔وزرات قانون نے آسیہ بی بی کیس کا ریکارڈ اکٹھا کرنے کے لیے پراسیکیوٹر جنرل آفس پنجاب سے رابطہ کیا ہے۔ (AasiaBibi)
کیس سے متعلق ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ بھی مانگا گیا۔خیال رہے آسیہ بی بی (AasiaBibi) کو ملتان جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق مسیحی خاتون آسیہ بی بی (AasiaBibi) ملتان جیل سے رہائی کے بعد بیرون ملک روانہ ہو گئیں۔بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ ملتان جیل سے آسیہ بی بی (AasiaBibi) کو راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس لایا گیا جہاں وہ اپنے خاندان سمیت نیدرلینڈز کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔ (AasiaBibi)

آسیہ بی بی (AasiaBibi) اور ان کے خاندان کے علاوہ پاکستان میں نیدرلینڈز کے سفیر بھی جہاز میں سوار ہیں۔ تاہم بعد ازاں دفتر خارجہ نے آسیہ بی بی (AasiaBibi) کی بیرون ملک روانگی کی خبروں کی تردید کی۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق ملتان وویمن جیل سے رہائی کے بعد آسیہ بی بی (AasiaBibi) پاکستان میں ہی ہیں۔ ان کی بیرون ملک روانگی کی خبریں درست نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ آسیہ بی بی گزشتہ 8 سال سے سینٹرل جیل ملتان میں قید تھیں۔ (AasiaBibi)
انہیں توہین رسالت کے کیس میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔جس کو لاہور ہائیکورٹ نے برقرار رکھا۔ تاہم 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی (AasiaBibi) پر لگنے والے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ آسیہ بی بی (AasiaBibi) کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا تھا، اسی باعث ان کی پھانسی کی سزا ختم کرتے ہوئے انہیں رہا بھی کرنے کا حکم جاری کیا گیا ۔ (AasiaBibi)
اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے مظاہرے کیے گئے۔ ملک کے بڑے شہروں میں حالات کئی روز تک کشیدہ رہے۔ تاہم بعد ازاں حکومت اور مظاہرین میں معاہدہ طے پا گیا۔ 5 نکاتی معاہدے کے بعد حکومت اور مظاہرین میں اتفاق پایا گیا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلے پر نظر ثانی اپیل میں حائل نہیں ہو گی۔آسیہ مسیح (AasiaBibi) کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ مظاہروں میں ہونے والی شہادتوں پر قانونی کاروائی کی جائے گی۔معاہدے میں طے پایا ہے کہ گرفتار کئیے جانے والے کارکنان کو رہا کیا جائے گا۔تحریک لبیک کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اس سارے واقعے میں اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو تحریک کے قائدین اس پر معذرت خواہ ہیں۔ (AasiaBibi)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں