پاکستان تحریک انصاف میں دراڑ پڑ گئی

(PTI Got worse)اسلام آباد (سحر نیوز) : پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے 100 روز کے لیے ایک پلان تشکیل دیا جس پر پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی اور وفاقی وزرا نے عمل کیا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کو بھی اندرونی اختلافات (PTI Got worse) اور اراکین پارلیمنٹ کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پارٹی کے کئی اراکین پارلیمنٹ فنڈز نہ ملنے پر پارٹی قیادت سے ناراض ہیں۔ (PTI Got worse)
حکومتی جماعت کے کئی وزرا اور ارکان پارلیمان حکومت کی 100روزہ کارکردگی اور اپنے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے مثبت ردعمل نہ ملنے کے باعث پارٹی اجلاسوں میں پھٹ پڑے (PTI Got worse) اور سخت غصے کا اظہار کیا۔ حکومتی وزرا اور ارکان پارلیمان نے وزیراعظم عمران خان سے اپنے حلقوں میں ترقیاتی اسکیموں کے لیے فنڈز کا مطالبہ بھی کیا اور وزیراعظم سے کہا کہ ہم پر حلقے کے عوام کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے ، اس حوالے سے جلد اقدامات کئے جائیں۔ (PTI Got worse)

اراکین کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کروانے کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے تاکہ ہم عوام کو کچھ ڈیلیور کر سکیں۔ اراکین کی جانب سے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی کیا گیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایک طرف پارٹی قائد وزرا اور پارٹی نمائندوں سے کارکردگی دکھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ہمارے حلقوں میں تاحال ترقیاتی کام شروع نہ ہونے کی وجہ سے عوام کے دباؤ کا سامنا ہے ۔ (PTI Got worse)
ذرائع نے بتایا کہ ملک میں معاشی بحران کے باعث ارکان کو براہ راست فنڈز دینے کے بجائے ترقیاتی اسکیمیں دی جا سکتی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابی حلقوں میں ترقیاتی کام شروع کرنے کا زیادہ مطالبہ پنجاب کے ارکان کی طرف سے سامنے آیا ۔عوامی نمائندوں کا ماننا ہے کہ اگر ہم نے اپنے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں اور ترقیاتی اسکیموں پر توجہ نہ دی تو آئندہ انتخابات میں ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ حلقے میں جب تک کوئی ترقیاتی کام نہیں ہو گا عوام کو بھی اعتماد میں نہیں لیا جا سکے گا جو آئندہ انتخابات میں ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں