عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کا فیصلہ کب اور کہاں ہوا

لاہور (سحر نیوز ) معروف صحافی Arif Hameed Bhatti کی وزیر اعلی عثمان بزدار اور تجزیہ کے بارے میں پنجاب کی سیاست پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب چھوڑ دو کہ وزیر اعلی پنجاب کو ہٹا دیں گے کیونکہ عثمان بزدار اب ایک انسداد بن گئے ہیں .عثمان بزدار کو ہوم آفس نے لگایا اور نہیں نہیں ہٹایا نہیں جا سکتا .عمران ایماندار آدمی ہیں لیکن وہ نظر انداز کر رہے ہیں.
انتخابات 25 جولائی ہوا، لیکن 7 اور 8 جولائی کو کچھ نظر آنے والے قوتوں نے فیصلہ کیا کہ پنجاب ادھر کر رہے ہیں اور وفاق ادھر کرتے ہیں. عمران خان کو سمجھتے ہیں کہ جس نے ان کو وزیراعظم بنا دیا ہے ان کی ہی تجویز عثمان بزدار بھی ہیں .لال رہتے ہیں عثمان بزدار کو اعلی اعلی پنجاب بنانے کے بعد عمران خان کو بہت تنقید کا سامنا ہے.

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ عثمان بزدار اتنا بڑا صوبہ اہل حدیث نہیں ہے .سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے عثمان بزدار کی وجہ سے وزیر اعظم بنائے اور کہا کہ وہ تبدیلی کا نام ہے اور ان کا تعلق ایک پسماندہ علاقے سے ہے. لیکن ایک وزیر اعلی بننے کے لئے کیا صرف ایک پسماندہ علاقے سے تعلق ہونا ضروری ہے؟.
وزیر اعلی کے اندر خود اعتمادی، تجربے اور صلاحیت ہونی چاہئے. وزیراعظم عمران خان نے جتنی تعریفوں کی پل عثمان بزدار کی باندھی اتنا آج تک کسی کو نہیں باندھا .عمران خان نے کہا کہ عثمان بزدار ٹیم لیڈر ہیں لیکن اب تک پنجاب میں بھی اس فیصلے میں وہ عثمان بزدار کے علاوہ سب نے کیا .معروف اینکر کامران شاہد نے بھی وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کھل کر مخالفت کی اور کہا کہ عثمان بزدار کو وزیر اعلی کہتے ہیں کہ میری بے عزتی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں