Kirtarpur Raidari

وزیراعظم عمران خان آج کرتارپور راہداری (Kirtarpur Raidari) کا سنگ بنیاد رکھیں گے

اسلام آباد(سحر نیوز) وزیراعظم عمران خان آج کرتارپور راہداری (Kirtarpur Raidari) کا سنگ بنیاد رکھیں گے، کرتار پور کوریڈور فیز ون میں ساڑھے چارکلو میٹرسڑک تعمیر کی جائے گی اور بارڈر ٹرمینل کمپلیکس بھی تعمیر کیا جائے گا. تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان آج سہ پہر کرتارپور راہداری (Kirtarpur Raidari) کی سڑک کا سنگ بنیاد رکھیں گے، کوریڈور کی تعمیر میں دریائے راوی پر پل اور بارڈر کے قریب مختلف محکموں کے دفاتر کے قیام کا بھی سنگ بنیاد رکھا جائے گا.

سنگ بنیاد کی تقریب کے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، کرتار پور کوریڈور منصوبے میں دریائے راوی پر 800 میٹر پل، پارکنگ ایریا اور سیلاب سے بچاﺅ کیلئے فلڈ پروٹیکشن بند بھی تعمیر کیا جائے گا جبکہ دوسرے فیز میں ہوٹل اورگوردوارے کی توسیع بھی کی جائے گی. کرتارپور راہداری کی سڑک کی سنگ بنیاد تقریب کے لیے اسٹیج کی تیاری مکمل کرلی گئی، 20 فٹ چوڑا 60 فٹ طویل اسٹیج بنایا گیا ہے اور راہداری منصوبے کی سڑک کو ہموار کیا جا رہا ہے، وزیراعظم کے سنگ بنیاد رکھتے ہی تعمیر کا کام باضابطہ طور پرشروع ہو جائے گا. (Kirtarpur Raidari)
خیال رہے کہ بھارت نے گزشتہ روز اپنی جانب سے بابا نانک گردوارے سے بارڈر تک کوریڈور کا سنگ بنیاد رکھ دیا تھا. وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر نوجوت سنگھ سدھو پاکستان پہنچ گئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ مجھے تقریب میں مدعو کئے جانا باعث فخر ہے. یاد رہے کہ بھارت کے دفترخارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو خط لکھ کر گرونانک کے جنم دن پر کرتارپور کوریڈور کھولنے پر شکریہ ادا کیا تھا جبکہ بھارت کی کابینہ نے کرتارپور بارڈر (Kirtarpur Raidari) تک کوریڈورکی تعمیر کی منظوری بھی دی تھی.
دوسری جانب کرتار پور بارڈر کے کھلنے پر لاہور کی سکھ برادری نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے سکھ کمیونٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ احسان کبھی فراموش نہیں کر سکتے. سکھ یاتریوں کے لیے کرتار بارڈر کھلنا کسی نعمت سے کم نہیں، حکومت کا یہ احسان کبھی فراموش نہیں کر سکتے، کرتار پور بارڈر کھلنے کی امید چھوڑ چکے تھے. سکھ برادری کا کہنا ہے کہ کرتا رپور بارڈ کھلنے سے عوامی رابطے بڑھیں گے اور پاک بھارت تعلقات میں بھی بہتری آئے گی. واضح رہے کہ پاکستان نے گوردوارہ کرتار پور صاحب کی زیارت کے لیے آنے والے یاتریوں کی سہولت کے لیے سرحد سے گوردوارے تک رسائی کے لیے ویزے جاری کرنے کے بجائے مخصوص دورانیے کے خصوصی پرمٹ جاری کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں