Asad umar

وزیراعظم ہاؤس کی وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر (Asad umar) کے استعفیٰ کی تردید

اسلام آباد(سحر نیوز) ذرائع وزیراعظم ہاؤس نے وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر (Asad umar) کے استعفیٰ کی تردید کردی، انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ اسد عمر (Asad umar) نے استعفیٰ نہیں دیا، استعفیٰ سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ اسدعمر (Asad umar) کے استعفیٰ دینے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرخزانہ اسد عمر نے استعفیٰ نہیں دیا۔
اسی طرح وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرخزانہ اسد عمر (Asad umar) اور مشیر اقتصادی امورعبدالرزاق داؤد کے درمیان جھگڑے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ صحت مند بحث پارٹی کلچر کا حصہ ہے ۔ایسی بحث ہوتی رہتی ہے۔ وزیرخزانہ نے استعفیٰ دیا ہے اور نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ کے استعفیٰ کی افواہ بعض عناصر اپنے مذموم مقاصد کیلئے پھیلا رہے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ڈالر بڑھنے اور ملکی معیشت کو سنبھالا نہ دینے پر مشیر اقتصادی امورعبدالرزاق داؤد اوروزیرخزانہ اسد عمر (Asad umar) کے درمیان جھگڑا ہوا ہے۔ تاہم ذرائع وزرات خزانہ نے دونوں کے درمیان جھگڑے کی خبروں کی بھی تردید کردی ہے۔دوسری جانب (ن) لیگ کی خاتون رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ کی طرف سے جمع کروائی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ڈالر 142روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
تین ماہ سے روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔بھارت،،سری لنکا،بنگلادیش اور افغانستان کی کرنسی پاکستان سے اوپر جا رہی ہیں۔حکومت ہر ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ کررہی ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر (Asad umar) اب آئی ایم ایف کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں۔برطانیہ،امریکہ اور فرانس میں پیٹرول سستا ہو رہا ہے۔
لہذا یہ ایوان ڈالر اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کی شدید مذمت کرتا ہے۔حکومت کی معاشی پالیسیاں مکمل طور پر کام ہو چکی ہیں۔ماہر معاشیات بننے والے وزیر خزانہ کو خود ہی عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔روپے کی قدر میں کمی سے عالمی سطح پر پاکستان کی ترقی کا گراف نیچے گیا ہے۔ماضی میں پاکستان کے معاشی حالات کبھی ایسے نہیں ہوئے ۔حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کا خمیازہ ہر شہری بھگت رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں