contact of the opposition

حکومت کاچیئرمین پی اےسی اپوزیشن جماعتوں سے لینےکا عندیہ (contact of the opposition)

اسلام آباد(سحر نیوز) حکومت نے چیئرمین پی اے سی کی تعیناتی کیلئے اپوزیشن سے رابطے کا فیصلہ کرلیا ہے (contact of the opposition)۔ وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو اپوزیشن سے رابطے کا ٹاسک دے دیا ہے، اپوزیشن سے چیئرمین پی اے سی اور قائمہ کمیٹیوں کے تقرر پربات کی جائے گی،حکومت نے اپوزیشن سے چیئرمین پی اے سی لینے کا عندیہ دے دیا۔ (contact of the opposition)
میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے چیئرمین پی اے سی اپوزیشن جماعتوں سے لینے کا عندیہ دے دیا (contact of the opposition ) ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی اے سی کیلئے شہبازشریف اور خواجہ آصف کے علاوہ کسی بھی اورشخص کو قبول کرلیں گے۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پارلیمانی رہنماؤں اور چیئرمین پی اے سی کی تعیناتی کیلئے پارٹی رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر،سینیٹ میں شبلی فراز، پرویز خٹک سمیت دیگر شریک ہوئے۔

وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کا ٹاسک دے دیا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن سے رابطہ کرکے چیئرمین پی اے سی اور قائمہ ک کمیٹیوں کی تقرریوں سے متعلق مشاورت کریں گے۔ دوسری جانب  اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی دھاندلی سے متعلق حکومتی ٹی اوآرز مسترد کردیے۔پیپلزپارٹی کے رہنماء نوید قمر نے کہا کہ حکومت نے آئینی ذمہ داری کو ہی ٹی اوآرز بنا دیا۔ (contact of the opposition)
پہلے دن سے حکومت کا طریقہ کار واضح نہیں ہے۔نوید قمر نے کہا کہ ٹی اوآرایک سادہ معاملہ تھا۔ہم نے قانونی ایشوزدیکھے جبکہ دھاندلی سے متعلق معاملات کو کمیٹی نے دیکھنا تھا۔کیا متعلقہ اور غیرمتعلقہ افراد نے اختیارات دیے؟انہوں نے کہا کہ حکومت ہر صورت فرار چاہ رہی ہے۔اپوزیشن حکومت کوراہ فرار اختیار نہیں کرنے دے گی۔اسی طرح مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء رانا ثناء اللہ نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کیخلاف پارلیمنٹ کے بائیکاٹ کی تجویز تھی لیکن پیپلزپارٹی نے پارلیمنٹ کے بائیکاٹ کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔
تاہم اب انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بن گئی ہے۔لیکن اس کے باوجود حکومت فرار چاہتی ہے۔رانا ثناء اللہ نے کہاکہ پارلیمنٹ کمیٹی کا راستہ روکا گیا تودوسرا راستہ احتجاج کا ہے۔احتجاج کا راستہ کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔لیکن اپوزیشن احتجاج کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے آج بھی زور دیا کہ اپوزیشن کے ٹی اوآرز کو اختیار کیا جائے۔حکومت اور اپوزیشن کے ٹی اوآرزمرکزی کمیٹی کو بھیج دیے جائیں۔پھردونوں کے ٹی اوآرز کا حتمی فیصلہ مرکزی کمیٹی کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے کوئی وقت نہیں مانگا حکومت نے خود کہا کہ اگلے ہفتے اجلاس کریں گے۔ (contact of the opposition)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں