Nawaz Sharif

پاکتپن اراضی کیس ، سابق وزیراعظم نواز شریف (Nawaz Sharif) کل سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے

اسلام آباد (سحر نیوز) : پاکپتن دربار اراضی کی الاٹمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت کل سپریم کورٹ میں ہو گی جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف (Nawaz Sharif) بھی عدالت میں پیش ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کل صبح نو بجے سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوں گے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف سپریم کورٹ میں پیش ہو کر پاکپتن دربار اراضی کی الاٹمنٹ سے متعلق اپنا موقف پیش کریں گے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکپتن اراضی کی الاٹمنٹ سے متعلق کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف (Nawaz Sharif) کو طلب کررکھا ہے۔ گذشتہ ماہ 13 نومبر کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں محکمہ اوقاف پاکپتن اراضی الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران نواز شریف نے وکیل کے توسط سے1985ء میں بحیثیت وزیر اعلیٰ پنجاب اپنی جانب سے جواب جمع کروادیا۔

نواز شریف کے وکیل منور اقبال ایڈووکیٹ نے جواب جمع کرواتے ہوئے کہا کہ ڈی نوٹیفکیشن کی سمری پر نواز شریف نے دستخط نہیں کیے تھے، جس پر عدالت نے نوازشریف کا جواب مسترد کردیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ آپ نے جواب میں لکھ دیا کہ نواز شریف کوعلم ہی نہیں اور نوازشریف نے ایسا کوئی آرڈر پاس ہی نہیں کیا تھا،وکیل صاحب آپ کو پتہ ہے کہ آپ جواب میں کیا مؤقف اختیار کررہے ہیں؟ چیف جسٹس نے وکیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ یہ جواب جمع کرواتے وقت اپنے ہوش وحواس میں بھی ہیں؟ کیا آپ کو علم بھی ہے آپ سابق وزیراعظم نوازشریف کی بات کررہے ہیں؟ میں جانتا ہوں اس شریف آدمی کو پتہ بھی نہیں ہوگا یہ مقدمہ کیا ہے۔
نواز شریف نے یہ آرڈر نہیں دیا پھر تو اس کے ساتھ دھوکہ اور فراڈ ہوگیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کیس کی فائل میں سمری لگی ہوئی ہے جس پر نواز شریف کے دستخط بھی موجود ہیں۔ اگر وہ اس کی ذمہ داری نہیں لے رہے پھر تومعاملہ ہی ختم ہوگیا، پھر تو یہ مقدمہ ریفرنس کا بنتا ہے۔چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے 3 مرتبہ ملک کے وزیراعظم رہنے والے شخص کا سیاسی کیرئیر داؤ پر لگا دیا ہے۔
چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کبھی نواز شریف (Nawaz Sharif) سے ملے بھی ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی ہاں، میں نے اس کیس کے سلسلے میں ایک مرتبہ نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔یہ جواب ان کی ہدایت پر ہی جمع کروایا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ نواز شریف خود آکر بتائیں یہ احکامات کس نے دیئے تھے اور خود آکر وضاحت کریں کہ انہوں نے نوٹی فکیشن کیوں واپس لیا تھا۔ جس کے بعد عدالت نے نواز شریف کو 4 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی تھی۔ واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف پر الزام ہے کہ انہوں نے 1985ء میں بطور وزیر اعلیٰ پنجاب پاکپتن دربار کے گرد اوقاف کی زمین کی الاٹمنٹ کا نوٹی فکیشن ڈی نوٹیفائی کیا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں