occupying the land of Hindu community

سندھ میں ہندو برادری کی زمین پر قبضہ (occupying the land of Hindu community):خورشید شاہ سمیت 46 ملزمان سے جواب طلب

اسلام آباد(سحر نیوز) سپریم کورٹ نے سندھ میں ہندو برادری کی زمین پر قبضہ (occupying the land of Hindu community) کرنے کے الزام میں پیپلز پارٹی کے سینئر راہنما خورشید شاہ سمیت 46 ملزمان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے. چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے سندھ میں ہندو برادری کی اراضی پر قبضے (occupying the land of Hindu community) سے متعلق کیس کی سماعت کی.
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ لاڑکانہ میں ہندو برادری کی اراضی پر قبضہ کی رپورٹ تیار ہے‘ رمیش کمار نے کہا کہ لاڑکانہ ڈویژن میں 46 شکایات تھیں، رپورٹ میں واضح لکھا ہے کہ ہندو کی زمین پر قبضہ ہے.

چیف جسٹس نے کہا کہ جن لوگوں نے قبضہ کیا ہے ان کو نوٹس دینا پڑے گا، خورشید شاہ کہتے ہیں انہوں نے کسی زمین پر قبضہ نہیں کر رکھا، آپ کہتے ہیں خورشید شاہ نے ہندوﺅں کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے.

رمیش کمار نے کہا کہ خورشید شاہ کے قبضہ کی تحریری شکایت سائل کی جانب سے دی گئی ہے اور سابق کمشنر سکھر نے بھی ہندو برادری کی زمین پر قبضہ (occupying the land of Hindu community) کی تصدیق کی ہے. سپریم کورٹ نے لاڑکانہ ڈویژن میں ہندو برادری کی زمین پر قبضہ کرنے والے 46 ملزمان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی. واضح رہے کہ چند روز قبل صحافیوں سے گفتگو کے دوران خورشید شاہ نے کہا تھا کہ خورشید شاہ نے زمین پر قبضے کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی برادری کی اراضی سے متعلق مجھ پر غلط الزام لگایا گیا.
انہوں نے کہا کہ کوئی شخص ثابت نہیں کرسکتا کہ میں نے کسی کی ایک انچ زمین پر قبضہ کیا ہے، چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ اس معاملے میں مجھے طلب کریں. خورشید شاہ نے کہا تھا کہ اگر مجھ پر قبضہ ثابت ہوا تو پھر بحیثیت سیاستدان مجھے سیاست کا کوئی حق نہیں، مجھے 4 کروڑ روپے کا پلاٹ صالح پٹ میں گفٹ ملا وہ میں نے دے دیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں