NRO

عمران خان نے ن لیگ کو پہلا این آر او (NRO) دے دیا

اسلام آباد (سحرنیوز) :اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو چئیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنانے پر حکومت اور اپوزشین کا اتفاق ہو چکا ہے جسے وزیراعظم عمران خان کا ایک یو ٹرن قرار دے دیا جا رہا ہے۔اسی متعلق تبصرہ کرتے ہوئے معروف صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں عمران خان کا پہلے روز سے اپنایا گیا موقف بلکل درست تھا۔ (NRO)
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایک نیوٹرل آدمی کو چئیرمین پی اے سی لگانا چاہئیے تھے اس کےلیے فخر امام اور اختر مینگل موزوں نام تھے۔حکومت کو چاہئیے تھا کہ کسی بھی نیوٹرل آدمی کو چئیرمین پی اے سی بنا دیتے چاہئیے شہباز شریف اور ان کی پارٹی ایوان میں نہ آتی۔ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا لیکن موجودہ حکومت نے ایک ایسے شخص کو چئیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنایا جو نیب کی حراست میں ہے،اس کو جمہوریت نہیں بلکہ مدر آف آل ڈیلز ہے۔

وزیراعظم کہاں کہاں اپوزیشن کے ساتھ سمجھوتہ کریں گے ا س سے تو ایسے ہی لگتا ہے کہ عمران خان نے این آر او(NRO) دینا شروع کر دیا ہے۔لیکن عمران خان نے انہیں پہلا این آر او دے دیا ہے۔مجھے تو یہ سوچ کر عجیب لگ رہا ہے کہ شہباز شریف کو جیل سے لایا جائے گا اور وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی صدارت کریں گے پھر انہیں منسٹر انکلیو لایا جائے گا جہاں وہ دس روز قیام کریں گے اور اجلاسوں کی صدارت کریں گے اور ایک ملزم اور ایک قیدی کو اس تمام کام کے پیسے بھی ملیں گے۔
رؤف کلاسرا کا مزید کہنا تھا کہ کرپشن کرنے والوں کی فتح ہوئی ہے اور اس اقدام سے پارلیمنٹ مضبوط نہیں ہوا بلکہ کمزور ہوا ہے۔اور یہ حکومت اور عمران خان کی بہت بڑی شکست ہے۔جب کہ اس حوالے سے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں