Model Town

سانحہ ماڈل (Model Town) ٹاؤن کیس میں اہم پیش رفت ممکن

لاہور (سحر نیوز) معروف صحافی چوہدری غلام حسین کاکہنا ہے کہ ماڈل ٹاؤن (Model Town) سانحہ کیس میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی آج جاری کر دیا جائے گا۔اور اس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت کے لیے مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔جو پولیس لوگوں پر فخریہ انداز میں گولیاں برسا رہی تھی ان کے گلے میں بھی اب پھندہ پڑنا چاہئیے۔
چویدری غلام حسین نے آئندہ 24 گھنٹوں میں سانحہ ماڈل ٹاؤن (Model Town) میں بڑی گرفتاری کی کا اشارہ دے دیا۔انہوں نے کہا کہ اب شہباز شریف،رانا ثناءاللہ اور سعد رفیق بچ نہیں سکیں گے۔واضح رہے 17جون 2017 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا،،پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں چودہ افراد جاں بحق جبکہ نوے زخمی ہوئے۔

سی روز ہی سانحہ کا مقدمہ ایس ایچ او کی مدعیت میں تھانہ فیصل ٹاؤن میں درج کر لیا گیا، ایف آئی آر نمبر 2004(510)جس میں ساری ذمہ داری عوامی تحریک پر ڈالی گئی۔۔ایف آئی آر میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے بیٹے حسین محی الدین، عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری خرم نواز گنڈاپور، چیف سکیورٹی آفیسر سید الطاف شاہ، شیخ زاہد فیاض سمیت 56 نامزد اور 3 ہزار نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن (Model Town) پر جے آئی ٹی اور جوڈیشل کمیشن کا قیام پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جس کا عوامی تحریک نے بائیکاٹ کر دیا۔18جون کو وزیراعلیٰ پنجاب نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لئے چیف جسٹس لاہو رہائیکورٹ کو عدالت عالیہ کے جج کی سربراہی میں انکوائری کمیشن بنانے کی سفارش کر دی۔
عوامی تحریک نے یک رکنی کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے سانحہ کی آزادانہ، غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے تین ایسے غیر متنازع، غیر جانبداراور اچھی شہرت کے حامل ججز پر بااختیار جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔سانحہ ماڈل ٹاون کی رپورٹ بھی ایک عرصہ متاثرین کو نہیں مہیا کی گئی تھی جس کچھ عرصہ پہلے عدالت کے حکم پر پبلک کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں