Assia Bibi

مغربی ممالک نے آسیہ بی بی (Assia Bibi) کو کرسمس منانے کی دعوت دے دی

اسلام آباد (سحرنیوز) : مغربی ممالک نے آسیہ بی بی (Assia Bibi) کو کرسمس پاکستان سے باہر منانے کی دعوت دی ہے۔ یہی نہیں بلکہ کئی مغربی ممالک نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آسیہ بی بی کو کرسمس منانے کے لیے یورپ جانے کی اجازت دی جائے۔ آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس حوالے سے نیدرلینڈ، جرمنی ، انگلینڈ اور فرانس میں متعلقہ حکام سے بات کی ہے، جنہوں نے آسیہ بی بی کو کرسمس منانے کے لیے یورپی یونین ممالک کا سفر کرنے کے لیے حکومتی اجازت دلوانے کا کہا ہے۔
سیف الملوک نے کہا کہ میں نے نیدر لینڈز میں پاکستانی سفیر شجاعت علی راٹھور سے ملاقات کی اور انہیں آسیہ بی بی (Assia Bibi) سے متعلق یورپی ممالک کی خواہش کے بارے میں آگاہ کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ امریکی حکام نے بھی اسی طرح کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ شجاعت علی راٹھور نے مجھے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ اس معاملے کو جلد جلد پاکستانی حکام کے ساتھ اُٹھایا جائے گا اور اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان سے بھی بات چیت کی جائے گی۔

ایک اطلاع کے مطابق شجاعت علی راٹھور کی اسی ہفتے میں پاکستان آمد متوقع ہے جس کے بعد عین ممکن ہے کہ وہ اس معاملے کو وزیراعظم عمران خان کے سامنے رکھیں ۔ واضح رہے کہ توہین رسالت ﷺ کیس سے بریت کے بعد آسیہ بی بی (Assia Bibi) کو کئی ممالک سے پناہ دینے کی پیشکش ہوئی۔ یاد رہے کہ آسیہ بی بی گزشتہ 8 سال سے سینٹرل جیل ملتان میں قید تھیں۔انہیں توہین رسالت کے کیس میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔
جس کو لاہور ہائیکورٹ نے برقرار رکھا۔ تاہم 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی پر لگنے والے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ آسیہ بی بی کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا تھا، اسی باعث ان کی پھانسی کی سزا ختم کرتے ہوئے انہیں رہا بھی کرنے کا حکم جاری کیا گیا ۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے مظاہرے کیے گئے۔
ملک کے بڑے شہروں میں حالات کئی روز تک کشیدہ رہے۔ تاہم بعد ازاں حکومت اور مظاہرین میں معاہدہ طے پا گیا۔ 5 نکاتی معاہدے کے بعد حکومت اور مظاہرین میں اتفاق پایا گیا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلے پر نظر ثانی اپیل میں حائل نہیں ہو گی۔آسیہ مسیح کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ مظاہروں میں ہونے والی شہادتوں پر قانونی کاروائی کی جائے گی۔معاہدے میں طے پایا ہے کہ گرفتار کئیے جانے والے کارکنان کو رہا کیا جائے گا۔تحریک لبیک کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اس سارے واقعے میں اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو تحریک کے قائدین اس پر معذرت خواہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں