Maryam Nawaz

لیگی رہنماؤں نے مریم نواز کی قیادت پر تحفظات کا اظہار کر دیا

اسلام آباد (سحر یوز) : سابق وزیراعظم نواز شریف کو آج صبح کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا جس کے بعد ن لیگ کی قیادت کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے ہو گئے۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے بعد نوازشریف کی گرفتاری کے بعد مریم نواز(Maryam Nawaz) کی طرف سے بھرپوراحتجاج اور اسلام آباد پہنچنے کی کال دینے کے باجود بھی کارکنوں اور ن لیگ کے ارکان اسمبلی کی طرف سے اچھا رد عمل نہ ملنے پر ن لیگ کی اعلٰی قیادت میں نہ صرف بے چینی پیدا ہوگئی بلکہ کئی اہم ترین افراد نے بھی مریم نوازشریف کی قیادت کو ماننے سے انکار کر دیا اور نجی محفلوں میں یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ مریم نوازکی وجہ سے آج نوازشریف اور پارٹی اس پوزیشن پر پہنچ چکی ہے کہ اقتداربھی گیا اور نیب کی تلوار بھی سر پر لٹک رہی ہے ۔

اب اگر مریم (Maryam Nawaz) کی قیادت میں چلے تو پارٹی اور ہم مزید نقصان میں رہیں گے ۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی گرفتاری اور سزا کے بعد ن لیگ کے اندرایک بڑے فارورڈ بلاک کے حوالے سے نہ صرف چہ مگوئیاں تیز ہوگئی ہیں بلکہ پنجاب اور وفاق دونوں جگہ پر ن لیگ کے ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد نے واضح طور پر اہم لیگی رہنماؤں کو یہ پیغام دیا کہ اگر مریم نواز کے کہنے پر اداروں سے ٹکراؤ کی سیاست اور احتجاجی تحریک شروع کی گئی تو وہ کسی صورت میں بھی پارٹی کا ساتھ دیں گے اور نہ ہی مظاہروں میں آئیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں. احتساب کرنا ہے تو بلا تفریق اور سب کا کريں، سینیٹر رضا ربانی

ذرائع کے مطابق نواز شریف کی سزا کے بعد چند ایک جگہوں پر احتجاج کے سوا بھرپوراحتجاج نہ ہونا بھی اسی کی ایک کڑی ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے اندر ایک بڑے گروپ نے یہ پیغام شہباز شریف تک بھی پہنچایا کہ اگر آئندہ سیاست میں رہنا ہے تو ہمیں نوازشریف اور مریم نواز (Maryam Nawaz) کے بیانیہ کی بجائے نیا بیانیہ جس میں اداروں سے ٹکراؤ نہ ہو ، کو لانا ہوگا اگر ایسا نہ ہوا تو پارٹی سے علیحدگی پر غور شروع کریں گے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مریم نواز کی قیادت پر ن لیگی رہنما تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں