major demands

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 4 بڑے مطالبات میں سے 2 پر اتفاق ہو گیا

اسلام آباد(سحر نیوز) پاکستان نے آئی ایم ایف کا بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ تسلیم کر لیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بیل آؤٹ پیکج پر مذاکرات جاری ہیں۔آئی ایم ایف کے 4 بڑے مطالبات (major demands) میں سے 2پر اتفاق ہو گیا ہے۔پاکستان کو اب آئی ایم ایف کے جواب کا انتظار ہے۔آئی ایم ایف نے روپے کی قدر کے تعین کے حوالے سے پاکستانی موقف پر اتفاق کیا ہے۔
اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ روپے کی قدر کنٹرول کرنے کی پاکستان کی پالیسی جاری رہے گی۔پاکستان نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے آئی ایم ایف کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے۔ریونیو وصولیوں کے ہدف کے بارے میں پاکستان نے آئی ایم ایف کا مطالبہ (major demands) تسلیم نہیں کیا گیا۔

پاکستان نے موقف اختیار کیا ہے کہ رواں مالی سال ٹیکس وصولوں کا ہدف 4400 ارب سے نہیں بڑھایا جائے گا۔

جب کہ آئی ایف نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بینکوں کے قرضوں پر شرح سود 13 فیصد تک بڑھائی جائے گی۔پاکستان نے آئی ایم ایف کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بینکوں کے قرضوں پر شرح سود میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا،۔ایسے اقدامات پاکستانی معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوں گے۔آئی ایم ایف کے وفد کا جنوری کے پہلے ہفتے میں پاکستان کا دورہ بھی متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں. وزیراعظم کا 3 ارب ڈالر دینے پر یواے ای حکومت سے اظہار تشکر

ائی ایم ایف کے وفد کے پاکستان نہ آنے کی صورت میں ویڈیو کانفرنس پر مذاکرات ہوں گے۔جب کہ اقتصادی امور کے ماہرین نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے نئے بیل آٹ پیکیج کے لیے بجلی قیمتوں میں اضافہ نہ کرے. نیپرا کی جانب سے بجلی کے نرخ میں ایک روپیہ 27پیسے فی یونٹ اضافے کے حالیہ فیصلے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی یقین دہانی خاص اہمیت کی حامل ہے.جس سے صارفین پر پڑنے والے 130ارب روپے سالانہ کے اس بوجھ سمیت اضافی ٹیکسوں کے اقدامات سے 170ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ متوقع منی بجٹ کا مطلوب بھی ٹیکسوں میں اضافہ ہی ہے جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بتدریج ایڈجسٹمنٹ کا نتیجہ مہنگائی میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوگا. (major demands)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں