Ali Raza Abidi

علی رضا عابدی کا قتل ، ایس ایس پی ساؤتھ نے اہم بیان دے دیا

کراچی (سحر نیوز) : ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رہنما علی رضا عابدی (Ali Raza Abidi) کو گذشتہ رات ان کے گھر کے دروازے پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ علی رضا عابدی کے قتل پر ایس ایس پی ساؤتھ پیر محمد شاہ نے کہا کہ علی رضا عابدی کے قتل کو ذاتی یا سیاسی معاملہ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ پیر محمد شاہ نے کہا کہ علی رضا عابدی کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ قتل سیاسی اختلافات کی بنا پر کیا گیا یا پھر ذاتی اختلافات کی بنا پر، اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق علی رضا عابدی کو سات گولیاں ماری گئیں۔ دو گولیاں ان کی گردن، ایک بازو اور چار گولیاں ان کے سینے میں لگیں۔ علی رضا عابدی پر قاتلانہ حملہ کرنے والے 2 ملزمان تھے۔
یہ بھی پڑھیں. علی رضا عابدی کے قتل کے بعد تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی کو بھی قتل کی دھمکیاں

ایم کیو ایم کے سابق رہنما علی رضا عابدی (Ali Raza Abidi) کو موٹر سائیکل سوار دہشتگردوں نے گھر کے باہر گولیاں ماریں۔

گارڈ نے علی رضا عابدی (Ali Raza Abidi) کی آمد پر ان کے لیے دروازہ کھولا تو ملزمان کی جانب سے اُسی وقت فائرنگ ہوئی، فائرنگ ہوتے ہی گارڈ اندر بھاگ گیا تھا۔ حملہ آور فائرنگ کرنے کے بعد فوری طور پر فرار ہوگئے۔ علی رضا عابدی کو زخمی حالت میں فوری جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ لیکن علی رضا عابدی کے سر اور گردن میں 4 گولیاں لگیں جس کے باعث وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔
واضح رہے کہ علی رضا عابدی 2013ء میں پہلی مرتبہ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ جبکہ 2018ء کے عام انتخابات میں علی رضا عابدی نے وزیراعظم عمران خان کے مقابلے میں الیکشن لڑا تھا۔ 2018ء کے الیکشن میں علی رضا عابدی کو بدترین شکست ہوئی تھی جس کے بعد ان کے اپنی جماعت ایم کیو ایم کی قیادت کے ساتھ اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ ان اختلافات کی وجہ سے ہی علی رضا عابدی نے ایم کیو ایم پاکستان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں