نامور شخصیات جو 2018ء میں جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں

اسلام آباد (سحر نیوز) : سال 2018ء کےا ختتام میں کچھ روز ہی باقی ہیں۔اس سال نامور شخصیات (Famous personalities) اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئیں جنھوں نے اپنے مداحوں کو بھی غمزدہ کر دیا۔سال 2018ء میں کئی اہم شخصیات نے وفات پائی جب میں شوبز انڈسٹری ، سیاستدان،معروف کاروباری افراد جب کی مخلتف شعبوں میں اپنا نام بنانے والی شخصیات (Famous personalities) شامل ہیں جو خود تو اس دنیا سے چلے گئے تاہم ان کی یادیں ہمیں رہیں گی۔ آئیے ان لوگوں کی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو 2018ء میں ہمارا ساتھ چھوڑ گئیں۔
عاصمہ جہانگیر

عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدرانسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم رکن تھیں انہوں نے 11 فروری 2018کو 66 برس کی عمر میں وفات پائی۔عاصمہ جہانگیر 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں تھیں۔

عاصمہ جہانگیر انتہائی نڈر اور بے باک خاتون کے طورپر جانی جاتی تھی۔

عاصمہ جہانگیر کی ساری زندگی آمریت کے خلاف لڑتے لڑتے گزر گئی ۔عاصمہ جہانگیر کو سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔2007ء میں ملک میں ایمر جنسی کے نفاذ کے بعد ان کو گھر میں نظر بند بھی کیا گیا تھا ۔انہیں ہلال امتیاز،مارٹن انل ایوارڈ،ریمن میکسیکے ایوارڈ سمیت کئی ایوارڈ سے نواز ا گیا تھا۔
نامور اداکارہ سری دیوی

سری دیوی بالی وڈ کی نامور اداکارہ سری دیوی 25 فروری کو اس دنیا سے چلی گئیں۔
وہ 13 اگست 1963 کو پیدا ہوئیں تھیں۔انہوں فلم ‘جولی’ میں معاون اداکارہ کے طور پر بالی وڈ میں اپنت کرئیر کا آغاز کیا۔اپنی نٹ کھٹ اداؤں کی وجہ سے سری دیوی نے مداحوں کے دلوں پر راج کیا۔سری دیوی کو 2013ء میں بھارت کے چوتھے بڑے ایوارڈ “پدم شری” سے نوازا گیا تھا۔سری دیوی کی اچانک موت نے انہیں کے مداحوں کو غم میں مبتلا کر دیا تھا۔
اسٹیفن ہاکنگ

اسٹیفن ہاکنگ ممتاز برطانوی سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ 14مارچ 2018ء کو انتقال کر گئے تھے۔
اسٹیفن ہاکنگ کو آئنسٹائن کے بعد دوسرا بڑا سائنس دان قرار دیا جاتا تھا، ان کا زیادہ تر کام بلیک ہولز اور تھیوریٹیکل کاسمولوجی کے میدان میں ہے۔ گزشتہ برس برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے اسٹیفن ہاکنگ کے 1966ء میں کیے گئے پی ایچ ڈی کا مقالہ جاری کیا گیا جس نے چند ہی دن میں مطالعے کا ریکارڈ توڑ دیا ۔ اور چند روز کے دوران اسے 20 لاکھ سے زائد مرتبہ پڑھا گیا اور 5 لاکھ سے زائد لوگوں نے اسے ڈاؤن لوڈ کیا تھا۔
اٹل بہاری واجپائی

اٹل بہاری واجپائی بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہار واجپائی 16اگست 2018ء کو 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔حکومت پاکستان کی دعوت اٹل بہاری واجپائی نے 1999ء میں پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا۔ اٹل بہاری واجپائی نے 1940 میں سیاست میں قدم رکھا تھا، 1942ء کی ’’بھارت چھوڑو‘‘ تحریک میں پرجوش حصہ لیا، تحریک کی شدت کو دیکھ کر تحریک کے شرکا کو پکڑا جانے لگا تو یہ بھی گرفتار ہو گئے اور انہیں 24 دنوں کی قید بھگتنی پڑی۔
اٹل بہاری واجپائی دو مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہے۔ پہلی مرتبہ 16 مئی 1996ء سے یکم جون 1996ء یعنی 15 دن کے وزیر اعظم رہے۔ دوسری مرتبہ 19 مارچ 1998ء سے 22 مئی 2004ء تک وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔واجپائی ملک کے صف اول کے سیاسی رہنما کے ساتھ ہندی کے عمدہ شاعر بھی تھے
بیگم کلثوم نواز

۔بیگم کلثوم نواز سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ تھیں انہوں نے11 ستمبر 2018 کو لندن میں وفات پائی تھیں۔
کلثوم نواز علاج کی غرض سے لندن میں زیر علاج تھیں۔کلثوم نواز نے اسلامیہ کالج خواتین اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔نواز شریف سے ان کی شادی 1971میں ہوئی تھی۔کلثوم نواز1999ء سے 2002 تک مسلم لیگ ن کی صدر ہیں،انہوں نے 12 اکتونر 1999ء کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف ایک سال تک تحریک چلائی،کلثوم نواز کو تین بار خاتون اول ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے،کلثوم نواز نے پانامہ کیس میں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد الیکشن بھی لڑا تھا جس میں کامیابی حاصل کر کے وہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں تاہم بیماری کے باعث وہ لندن میں تھیں جس وجہ سے حلف نہ اٹھا سکیں۔
جارج ایچ ڈبلیو بش

سابق امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش رواں برس یکم دسمبر کو انتقال کر گئے۔جارج بش سینئر نے 94 برس کی عمر میں وفات پائی۔جارج بش امریکا کے 41 ویں صدر رہ چکے ہیں۔وہ 1989 سے 1993 تک اس عہدے پر فائزہ رہے۔بش سینئیر اس سے قبل 1981 سے 1989تک صدر رونالڈ ریگن کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔ 1976 تا 1977میں جارج بش سینئیر سینتڑل انٹیلی جن ڈائیریکٹر کے عہدے پر فائز رہے جب کہ 1971 تا 1973تک انہوں نے اقوام متحدہ میں امریکی مندوب کے فرائض سر انجام دئیے۔
جارج بش سینئیر نے 4 دہائیوں سے جاری سرد جنگ کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اداکار علی اعجاز

فلم ،ٹی وی اور ریڈیو کے ممتاز اداکار علی اعجاز 18 دسمبر کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے تھے۔سابق ہاکی اولمپئین منصور احمد طویل علالت کے باعث 12 مئی کو انتقال کر گئے تھے۔انہوں نے پاکستان کے لیے 338 انٹرنیشنل ہاکی میچز کھیلے۔جب کہ 1986ء سے 2000ء کے درمیان 3 اولمپکس کی نمائندگی کی۔
یہ بھی پڑھیں. حمزہ علی عباسی نے علی رضا عابدی کے قتل کی ذمہ داری الطاف حسین پر ڈال دی
منصور احمد نے 24 سال قبل پاکستان کو چوتھی بار ہاکی کا عالمی چیمپئین بنایا تھا۔انہیں دنیا کے نمبر ون گول کیپر ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ علی اعجازکی عمر77برس تھی۔علی اعجاز نے 1967 میں کیریئر کا آغاز کیا۔ علی اعجاز نے28فلموں میں فن کے جوہر دکھائے۔ خواجہ اینڈ سن اور کھوجی علی اعجاز کے مقبول ڈرامے تھے۔علی اعجاز کو 1993ء میں صدارتی تغمہ برائے حسن کارگردگی سے نوازا گیا تھا جب کہ انہوں نے لائف ٹائم ایچومنٹ ایوارڈ سمیت کئی اہم ایوارڈ اپنے نام کیے۔
جمال خشوگی

سعودی صحافی جمال خشوگی کو مبینہ طور پر استنبول کے سعودی قونصل خانے میں 2 اکتوبر کو قتل کیا گیا تھا۔وہ واشنگٹن پوسٹ کے ایک مقبول کالم نگار تھے،جمال خشوگی کا قتل پوری دنیا میں ایک سیاسی مسئلہ بن گیا۔
زبیدہ آپا

معروف ماہر امور خانہ داری زبیدہ آپا نے 4 جنوری کو وفات پائی۔۔ زبیدہ آپا معروف مصنف انور مقصود کی ہمشیرہ تھیں۔
جبکہ انہوں نے امور خانہ داری میں ماہر ہونے کے باعث شہرت پائی تھی۔ زبیدہ آپا کو پورا نام زبیدہ طارق تھا۔
مولانا سمیع الحق

معروف عالم دین، مذہبی اسکالر اور جمعیتعلماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو 2 نومبر کو قتل کیا گیا تھا۔وہ جامعہ دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے بھی سربراہ تھے۔مولانا سمیع الحق نے خود بھی دارعلعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کی تھی۔
مولانا سمیع الحق دفاعِ پاکستان کونسل کے چئیرمین اور سینیٹ رکن بھی رہے۔
علی رضا عابدی

علی رضا عابدی کو 25 دسمبر کو ان کے گھر کے باہر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔علی رضا عابدی 1972 میں کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ علی رضا عابدی 2013ء میں پہلی مرتبہ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔علی رضا عابدی نے ایم کیو ایم کی قیادت سے اختلافات کے باعث پارٹی کو خیر آباد کہہ دیا تھا۔ (Famous personalities)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں