Nawaz Sharif

نواز شریف نے 2 ارب ڈالرز پلی بارگین کی پیش کش کی ہے

اسلام آباد (سحر نیوز) وفاقی وزیر فیصل واڈا کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف (Nawaz Sharif) نے 2 ارب ڈالرز دینے کی پیش کش کی ہے، سابق وزیراعظم (Nawaz Sharif) چاہتے ہیں ان سے 2 ارب ڈالرز لے کر انہیں رہا کر دیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر فیصل واڈا کی جانب سے تہلکہ خیز دعویٰ کیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر فیصل واڈا نے انکشاف کیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی جان بخشی کیلئے 2 ارب ڈالرز کی پیش کش کی ہے۔
فیصل واڈا کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے 2 ارب ڈالرز دینے کی پیش کش حکومت کو کی ہے۔ فیصل واڈا کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے پیغام بھیجا ہے کہ وہ 2 ارب ڈالرز دینے کیلئے تیار ہیں، بدلے میں انہیں رہا کر دیا جائے۔

فیصل واڈا کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نواز شریف (Nawaz Sharif) کی پیش کش کو قبول نہیں کرےگی۔ تحریک انصاف کی حکومت نواز شریف کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل نہیں کرے گی۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ انوسٹمنٹ اور العزیزیہ ریفرنسز کا محفوظ کردہ فیصلہ سناتے ہوئے انہیں العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت، 5 ارب روپے جرمانہ اور دس سال کیلئے نااہلی کی سزا سنادی جبکہ فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو بری کر دیا جس کے بعد کمرہ عدالت میں موجود نیب حکام نے انہیں تحویل میں لے لیا گیا تھا۔
سابق وزیراعظم نواز (Nawaz Sharif) کو جیل کی قید، جرمانے، نااہلی اور جائیداد ضبطگی کے علاوہ بھی ایک اور سزا دے دی گئی ہے۔ احتساب عدالت کے تفصیلی فیصلے کے مطابق سابق وزیراعظم نواز اب 10 سال تک کسی بھی بینک سے کسی بھی قسم کا قرضہ بھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے نیب کے دائر کردہ ریفرنسز پر فیصلہ بدھ 19 دسمبر کو محفوظ کیا تھا جو انہوں نے پیر کو سنایا۔

یہ بھی پڑھیں. مریم نواز کی کوٹ لکھپت جیل آمد ، والد سے ملاقات
قبل ازیں سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں 28 جولائی 2017ء کو محمد نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے اور ان کے بچوں کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے پر ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔اس عدالتی حکم پر 8 ستمبر 2017 ء کو سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ان کے بچوں اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف تین ریفرنس دائر کئے تھے۔احتساب عدالت نے نواز شریف کو 19 ستمبر 2017 کو پیش ہونے کا حکم دیا لیکن وہ 26 ستمبر کو پہلی بار احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش ہوئے۔
العزیزیہ ریفرنس میں 22 اورفلیگ شپ میں 16 گواہان پیش ہوئے ۔دونوں ریفرنسز میں 183 سماعتیں ہوئیں اورکارروائی پندرہ ماہ یعنی 19 دسمبر کو مکمل ہوئی۔نواز شریف 130 بار عدالت پیش ہوئے انہیں پندرہ بار جیل سے احتساب عدالت پہنچایا گیا۔ پہلی 103سماعتیں جج محمدبشیر نے کیں جن میں ایون فیلڈ ریفرنس بھی شامل تھا۔ ٹرائل دوسری عدالت منتقل ہونے کے بعد العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس میں جج ارشدملک نی 80سماعتیں کیں جس کے بعد چوبیس دسمبر تک فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں