Trumpp

افغان جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستانی قیادت سے ملاقات کا منتظرہوں:صدر ٹرمپ

واشنگٹن(سحر نیوز) امریکی صدر ٹرمپ (Trumpp) نے کہا ہے کہ روس افغانستان میں دہشت گرد وں کو روکنے کے لیے گیا تھا‘ روس کو افغانستان میں مداخلت کا حق تھاصدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روس افغانستان میں اس لیے گیا تھا کہ دہشت گرد روس میں داخل ہورہے تھے، روس کو افغانستان میں مداخلت کا حق تھا. واشنگٹن میں اجلاس کے دوران انہوں نے افغانستان کے تنازع کو حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستانی قیادت سے جلد ملاقات کروں .

صدر ٹرمپ (Trumpp) کے روس کے افغانستان پر حملے کے حوالے سے بیان پر ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے یہ باتیں کر کے افغانستان میں نہ صرف سابق سوویت یونین کی مداخلت جائز قرار دے دی بلکہ ان کا مقصد افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کی راہ بھی ہموار کرنا ہے. دوسری جانب پاکستان کے لیے امریکا کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی آگئی، دو برسوں سے پاک امریکا تعلقات پر جمی برف پگھلنے لگی ہے.
سال نو کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کو مثبت پیغام دیتے ہوئے نئی پاکستانی قیادت سے جلد ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے . انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، میں پاکستان کی نئی قیادت سے جلد ملاقات کا منتظر ہوں یہ ملاقات اب زیادہ دور کی بات نہیں. انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں‘ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا طالبان سے اور دوسرے لوگوں سے مذاکرات کررہا ہے جو درست ہے، روس کبھی سوویت یونین تھا، افغانستان نے اسے روس بنایا کیوں کہ سوویت یونین افغانستان میں جنگ لڑتے ہوئے دیوالیہ ہوگیا تھا.
امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ (Trumpp) نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو مذاق کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی افغانستان امریکا اور افغان حکومت کی عسکری مدد کرنے کی بجائے افغانستان میں لائبریری بنانے کی بات کرتے ہیں، آخر یہ لائبریری کس کے کام آئے گی. افغانستان کے امن عمل میں بھارت کے دہائیوں پرانے کردار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بھارت آخر طالبان کے خلاف افغانستان کی مدد کیوں نہیں کرتا ،افغانستان میں بھارت جو امداد کر رہا ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں.
اجلاس میں ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ روس اور پاکستان افغانستان میں طالبان سے لڑنے کیلئے کلیدی کردار ادا کریں. اس سے قبل ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ افغانستان اس کے ساتھ دوستانہ رویہ برقرار رکھے، جس میں دشمنی کے رویے کی گنجائش نہیں ہوگی. انہوں نے نیٹو اور اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں طویل عرصے سے آخر دوسرے ممالک کیا کر رہے ہیں سوائے اپنے سو، دو سو فوجی بھیجنے کے، اور وہ بات ایسے کرتے ہیں جیسے انہوں نے بہت کچھ کیا ہے.
ٹرمپ (Trumpp) نے اپنی ہوئے کہا کہ وہاں بھارت کیوں نہیں ہے، پاکستان کیوں نہیں ہے، روس کیوں نہیں ہے، ہم ہی کیوں ہیں؟امریکا افغانستان سے 6 ہزار میل کمی دوری پر ہے پھر بھی ہم اس کی مدد کے لئے وہاں موجود ہیں مگر مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہم دوسرے ممالک کی مددکے لئے ہمیشہ تیار رہیں گے. ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی شدید مالی مشکلات کا شکار ہے اور وہ جلدازجلد اس مہنگی ترین جنگ سے جان چھڑوانا چاہتا ہے .
یہ بھی پڑھیں. پی ٹی آئی رہنمائی نے بلاول بھٹو سے متعلق خطرناک پیشگوئی کر دی

اردو پوائنٹ کے ایڈیٹر اور تجزیہ نگار میاں ندیم نے کہا کہ کانگرس بجٹ آفس کے اعداد وشمار کے مطابق امریکا2017تک افغانستان اور عراق میں 2اعشاریہ4کھرب ڈالر جھونک چکا ہے جبکہ اس میں خفیہ مشنزاور پرائیویٹ”کنٹریکٹرز“کے اخرجات شامل نہیں ہیں . اگر ہم امریکی معیشت کو دیکھتے ہیں تو اس کی حالت کافی خراب ہے ‘واشنگٹن حکومتی شیٹ ڈاﺅن کی وجہ سے شدید دباﺅ کا شکار ہے‘مہنگائی‘بیروزگاری‘بے یقینی ‘جرائم کی شرح میں اضافہ اگرچہ یہ سب شارٹ ٹرم مسائل ہیں تاہم ہمیں ان حالات کو مدنظر رکھنا ہوگا جن کی بنیاد پر امریکی ووٹرزنے صدر ٹرمپ کو مینڈیٹ دیا .
صدر ٹرمپ (Trumpp) کا ”سب سے پہلے امریکا“کا نعرہ عوام میں مقبول ہوا اور انہوں نے اسی نعرے کی بنیاد پر انہیں ووٹ دیا وائٹ ہاﺅس پہنچنے کے بعد انہوں نے تارکین وطن کے حوالے سے متنازع قوانین سمیت بہت سارے غیرمقبول فیصلے کیئے جن کی وجہ سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا. تاہم یہ بھی درست ہے کہ وہ انتخابی مہم میں امریکی عوام سے کیئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں .
میاں ندیم کا کنا تھا کہ ماضی میں امریکی قیادت نے افغانستان ‘عراق‘لیبیا‘شام سمیت مختلف جنگوں اور تنازعات الجھ کر امریکہ پر زبردست مالی دباﺅ ڈالا یہ جنگیں بہت ہی مہنگی ثابت ہوئی ہیں امریکیوں کے لیے لہذا اب وہ چاہتے ہیں کہ ایک ایک کرکے وہ سارے ”کمبلوں“سے جان چھڑوائیں شام کا ”کمبل“وہ ترکی پر ڈال کر وہاں سے نکل رہے ہیں اسی طرح ان کی خواہش ہے کہ افغانستان کا” کمبل“ ایک بار پھر پاکستان اپنے گلے ڈال لے. (Trumpp)
خطے کی صورتحال اور بھارتی مداخلت کی وجہ سے اگرچہ افغانستان میں حالات سازگار نہیں ہیں مگر یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ وہ بیک وقت افغانستان اور امریکا سے بہتر تعلقات کے اس موقع سے فائد ہ اٹھائے اور امریکا کے ساتھ مذکرات میں پاکستان اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھائے اور زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرئے‘اسی طرح افغانستان میں قیام امن کے لیے روس‘چین اور ایران کے ساتھ ڈائیلاگ کو بڑھایا جائے کیونکہ ان ممالک کے افغانستان میں براہ راست ”سٹیکس“ہیں . (Trumpp)
پاکستان تمام اسٹیک ہولڈرزسے ڈائیلاگ کو آگے بڑھاتا ہے تو بھارت کا کردار خودبخود ختم ہوتا جائے گا. انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور فوری طور پر روس اور چین کو اعتماد میں لینے کے لیے اقدامات کرنا چاہیے کیونکہ افغانستان میں خانہ جنگی کے خاتمے سے ایک طرف روس کو زمینی راستے سے گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں تک رسائی ملے گی تو دوسری جانب چین سی پیک کے روٹ سے مشرقی یورپ کی منڈیوں تک رسائی حاصل کرسکتا ہے پاکستان کے سنہری موقع ہے کہ وہ ایک بڑے اور اہم ترین عالمی تجارتی ہب کی حیثیت سے ابھرے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں