sheryar afridi

سانحہ ساہیوال کے بعد تحریک انصاف کے وزیر نے استعفیٰ دینے کی پیش کش کردی

ساہیوال (سحر نیوز) سانحہ ساہیوال کے بعد تحریک انصاف کے وزیر (sheryar afridi) نے استعفیٰ دینے کی پیش کش کردی، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی (sheryar afridi) کا کہنا ہے کہ مجھے چاہے استعفا دینا پڑے لیکن ملوث افراد کو مثال بنا کر چھوڑیں گے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں جاری قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کی جانب سے سانحہ ساہیوال پر اپنا ردعمل دیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہریار آفریدی (sheryar afridi) نے استعفا دینے کی پیش کش کردی۔ شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ مجھے چاہے استعفا دینا پڑے لیکن ملوث افراد کو مثال بنا کر چھوڑیں گے۔ جے آئی ٹی رپورٹ 3 دن میں آئے تو ایوان میں پیش کی جائے گی۔ ایوان چاہے تو کمیٹی بنا دے یا جو حل پیش کرے۔

الزامات در الزامات سے مسئلے کا دیرپا حل نہیں نکلے گا۔ پوری قوم اضطراب کا شکار اور آبدیدہ ہے۔

اس واقعے کا جواب موجودہ حکومت کو دینا پڑے گا اور ہم دیں گے۔ ملوث افراد کو کڑی سزا دی جائے گی۔ شہریار آفریدی (sheryar afridi) کا مزید کہنا ہے کہ فوجداری نظام موجودہ حالات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ موجودہ عدالتی نظام کے باعث فوجی عدالتیں بنانا پڑتی ہیں۔ دوسری جانب سانحے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ واقعے میں ہلاک خلیل احمد کا لاہور کے علاقے چونگی امرسدھو میں جنرل سٹور تھا۔
وہ اپنی بیوی، 3 بیٹیوں، ایک بیٹے اور دوست ذیشان کے ساتھ شادی میں شر کت کیلئے بورے والا جا رہا تھا کہ ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب یہ واقعہ پیش آیا۔ پنجاب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے خلیل، اس کی اہلیہ نبیلہ، 13 سالہ بیٹی اریبہ اور ذیشان کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ فائرنگ سے 10 سالہ عمر خلیل، 7 سالہ بچی منیبہ اور 5 سالہ بچی ہادیہ کو بھی زخم آئے۔

یہ بھی پڑھیں.پاک فوج نے نتھیاگلی میں پھنسے تمام سیاحوں کوریسکیو کرلیا، آئی ایس پی آر

واقعے کے بعد بغیر نمبر پلیٹ کی ایلیٹ فورس کی موبائل زندہ بچ جانے والے بچوں کو پہلے ساتھ لے گئی، پھر پٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، کچھ دیر بعد واپس آ کر تینوں بچوں کو ہسپتال پہنچایا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے گاڑی کو روکا اور فائرنگ کر دی جبکہ گاڑی کے اندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔ ڈی سی ساہیوال نے بھی تصدیق کی کہ کار سواروں نے کو ئی مزاحمت نہیں کی۔ (sheryar afridi)
عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ گاڑی میں کپڑوں سے بھرے 3 بیگز بھی موجود تھے جنہیں پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔ زخمی بچے عمر خلیل نے میڈیا کو بتایا کہ وہ گاڑی میں سوار ہو کر چچا کی شادی میں شرکت کے لیے بورے والا گاؤں جا رہے تھے۔ اس کے والد نے پولیس والوں سے کہا کہ پیسے لے لو، ہمیں معاف کر دو لیکن انہوں نے فائرنگ کر دی۔ دوسری جانب وزیراعظم کے حکم پر سانحے میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، امکان ہے کہ واقعے کی رپورٹ اگلے 24 گھنٹے میں جاری کر دی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں