Naqibullah murder

نقیب اللہ قتل کیس میں اہم پیش رفت

کراچی (سحر نیوز) نقیب اللہ قتل کیس (Naqibullah murder) میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔اے ٹی سی نے نقیب اللہ سمیت 4 افراد کا قتل ماروائے عدالت قرار دے دیا۔عدالت نے نقیب اللہ و دیگر کے خلاف درج 5مقدمات ختم کرنے کی بھی رپورٹ منظور کر لی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نقیب اللہ اور اس کے ساتھیوں کو دہشت گرد قرار دے کر قتل کیا گیا۔نقیب اللہ،صابر،نذر خان اور اسحاق کو داعش اور لشکر جھنگوی کے دہشت گرد قرار دے کر قتل کیا گیا۔
حالات و واقعات اور شواہد کی روشنی میں یہ مقابلہ خود ساختہ جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نقیب اللہ (Naqibullah murder) اور اس کے ساتھیوں کو کمرے میں قتل کرنے کے بعد اسلحہ اور گولیاں ڈالی گئیں۔راؤ انوار اور ساتھی جائے وقوعہ پر موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں.آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف دائر اپیل سماعت کے لیے مقرر

رپورٹ میں کہا گیاہے کہ انکوائری کمیٹی اور تفتشی افسر نے جائے وقعہ کا دورہ کیا۔جب کہ دوسری جانب انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ (Naqibullah murder) کیس میں 7 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے 7 ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے انہیں جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ نقیب اللہ قتل کیس میں گرفتار ملزمان میں اکبر ملاح، محمد انار، فیصل محمود، خیر محمد، عمران کاظمی، رئیس عباس زیدی اور شکیل فیروز شامل ہیں۔
واضح رہے نوجوان نقیب اللہ (Naqibullah murder) محسود کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا تھا۔نقیب اللہ قتل کیس میں سب سے واضح نام سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا تھا۔راؤ انوار قتل کے بعد کئی روز تک مفرور رہے تاہم بعد میں خود ہی عدالت میں پیش ہوئے تھے بعد ازاں راؤ انوار کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا اور ان کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا۔گذشتہ ہفتے کراچی میں جعلی پولیس مقابلوں میں ملوث اور نقیب اللہ محسود قتل کیس کے ملزم سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوار نے ای سی ایل سے نام نکالنے کی استدعا کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں