biggest terrorist

اگر تصویر کی بنیاد پر ہی نشانہ بنانا ہے تو حامد میر کی تصویر تو سب سے بڑے دہشتگرد کے ساتھ ہے

اسلام آباد (سحر نیوز) : (biggest terrorist) سانحہ ساہیوال پر نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے صحافی و تجزیہ کار اوریا مقبول جان نے کہا کہ انٹیلی جنس کی بنیادوں پر جو آپریشنز کیے جاتے ہیں ان میں بنیادی طور پر بہت احتیاط کی جاتی ہے۔ احتیاط اس لیے کی جاتی ہے کہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشن کو کورٹ آف لاء میں ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
کہا گیا تھا کہ ایپکس کمیٹی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والے آپریشنز کی اجازت دے گی لیکن پنجاب میں گذشتہ دو سال سے ایپکس کمیٹی کا کوئی اجلاس نہیں ہوا اور اس کے باوجود آپریشنز چل رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے تین لوگوں کو بچانے کے لیے ذیشان کو دہشتگرد قرار دیا گیا۔ جو ثبوت فراہم کیا جا رہا ہے وہ ذیشان کی ایک دہشتگرد کے ساتھ تصویر ہے اور دوسرا ذیشان کی گاڑی ایک اور گاڑی کے ساتھ لوکیٹ ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں،جرمن سفیر مارٹن کوبلر اسلام آباد میں شیلٹر ہوم پہنچ گئے

لیکن بات یہ ہے کہ جس کے ساتھ ذیشان کی تصویر ہے وہ بھی مر چکا ہے ، اُس کا اگلا والا بھی مر چکا ہے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ کیا صرف تصویر کی بنیاد پر قتل (biggest terrorist) کرنے کا لائسنس مل سکتا ہے؟ اگر تصویر کی بنیاد پر قتل ہی کرنا ہے تو پھر سب سے پہلے حامد میر کو کرنا چاہئیے کیونکہ اس کی تصویر دنیا کے سب سے بڑے دہشتگرد (biggest terrorist) اُسامہ بن لادن کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی کے بے جا اختیارات دئے گئے ہیں ، میں خود ایڈمنسٹریشن میں رہا ہوں اور اتنا تو جانتا ہوں کہ زندہ دہشتگرد زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔
وہ لیڈ دیتا ہے ، وہ صورتحال بھی بتاتا ہے۔ اس معاملے میں بھی سی ٹی ڈی نے بُرا کام کیا، انہوں نے ایک دہشتگرد کو ، جو زندہ پکڑا جا سکتا تھا، مار دیا ۔ اس ضمن میں پنجاب حکومت بھی کچھ کرنے سے قاصر ہے اور پنجاب حکومت سے یہ معاملہ ہینڈل نہیں ہو رہا۔ (biggest terrorist)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں