cultural and traditional

ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کے ثقافتی اور روایتی تہواروں کو بحال کرنے جا رہی ہے،

اسلام آباد ۔ (سحر نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کے ثقافتی اور روایتی (cultural and traditional) تہواروں کو بحال کرنے جا رہی ہے، حکومت دنیا بھر سے سیاحوں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایک نئی ویزہ پالیسی متعارف کرانے جا رہی ہے‘ حکومت کا یہ قدم پاکستانی سیاحت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو گا‘ اپوزیشن کا رویہ انتہائی دلبرداشتہ ہے جو ایوان کو چلنے ہی نہیں دے رہی، حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن اپوزیشن اس سلسلے میں غیر سنجیدہ ہے اور کوئی تعاون بھی نہیں کر رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی نئی ویزہ پالیسی کے مطابق پاکستان 175 ممالک کو ای ویزہ کی سہولت آفر کر رہا ہے جبکہ 50 ممالک کو آن ارائیول ویزہ مل جائے گا اور 66 ممالک کو کاروباری ویزہ کی آفر دے رہے ہیں جو تین دنوں میں لگ جائے گا جس سے ملک میں سیاحت کو بہت زیادہ فروغ ملے گا جو ملکی معیشت کے استحکام میں مددگار ثابت ہو گا۔ (cultural and traditional)

انہوں نے کہا کہ یہ حکومتی اقدام انتہائی احسن اقدام ہے جس سے پاکستان پوری دنیا میں ابھر کر سامنے آئے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا رویہ انتہائی دلبرداشتہ ہے جو ایوان کو چلنے ہی نہیں دے رہی، حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن اپوزیشن اس سلسلے میں غیر سنجیدہ ہے اور کوئی تعاون بھی نہیں کر رہی ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کے ساتھ کشیدگی شروع دن ہی سے ہے بلکہ انتخابات سے بھی پہلے کی ہے اور یہ کشیدگی صرف ایک ہی مسئلے پہ ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) دونوں جماعتیں این آر او مانگ رہی ہیں اور اپنی قیادت پر دائر مقدمات سے ریلیف چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان میں انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے جب کمیٹی بنانے کا کہا گیا تو ہم نے پہلے دن ہی یہ کمیٹی بنا دی حالانکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت کے دور میں یہ کمیٹی بنتے ہوئے چار سال کا عرصہ لگا تھا، اس کے بعد شہباز شریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی) کا چیرمین بنا دیا گیا حالانکہ ہماری جماعت کے اندر اس معاملے پر میرے سمیت لوگوں کی رائے مختلف تھی لیکن ہم نے پارلیمان کو چلانے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے یہ سب کچھ بھی مان لیا لیکن اس کے باوجود اپوزیشن کا رویہ منفی ہی رہا اور ہائوس کو چلنے نہیں دیا گیا، جمعرات کو بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں یہ طے کیا گیا اور ہر جگہ پر یقین دہانی کرائی گئی کہ فنانس بل کے علاوہ کوئی اور بات نہیں ہو گی لیکن بعد میں ان لوگوں نے کتنا منفی رویہ اختیار کیا اور ہائوس کو چلنے نہیں دیا گیا۔ (cultural and traditional)

یہ بھی پڑھیں،کراچی ایئرپورٹ پر مسافر کے بیگ سے 7 ہزار سے زائد ڈالرز چوری

انہوں نے کہا کہ پارلیمان میں اپوزیشن کے اراکین جس قسم کی گھٹیا زبان اور جملے بازی کرتے ہیں اس طرح کی زبان تو لوگ بازاروں میں بھی استعمال نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا یہ رویہ بہت ہی افسوسناک قسم کی صورت حال پیش کر رہا ہے اور اپوزیشن کی ذہنی حالت اس قسم کی نہیں ہے کہ وہ ایوان میں بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اتنی گندی زبان استعمال نہیں کی جتنی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین قومی اسمبلی نے کی ہے جنہیں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ایما حاصل تھی۔ (cultural and traditional)
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا فیصلہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ہی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی سمیت وزیر خارجہ اور ہم سب لوگ اپوزیشن کے رویے سے دلبرداشتہ ہیں اور بہتر سمجھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ نواز شریف پر پاناما سمیت دیگر مقدمات ہم نے تو نہیں بنائے، صرف پیسوں کو بچانے کے لیے سیاست کی جا رہی ہے۔ (cultural and traditional)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں