CTD

سی ٹی ڈی ذیشان کو زندہ پکڑنا ہی نہیں چاہتی تھی

لاہور (سحر نیوز) : سانحہ ساہیوال سے متعلق اہم انکشافات سامنے آ گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز سانحہ ساہیوال میں ہوے والی سی ٹی ڈی (CTD) کی کارروائی میں گولی چلانے کا حکم دینے والے افسر کا نام سامنے آیا تھا۔ ایس ایس پی سی ٹی ڈی جواد قمر کی جانب سے حکم دیا گیا تھا کہ ذیشان کے پاس دھماکہ خیز مواد ہوسکتا ہے لہٰذا دیکھتے ہی گولی ماردی جائے ۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی (CTD) ذیشان کو زندہ پکڑنا ہی نہیں چاہتی تھی جبکہ پولیس افسر اپنے پیٹی بھائی کو بچانے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں ۔ تا ہم اس حوا لے سے ایس ایس پی جواد قمر کی جانب سے کو ئی بیا ن جا ری نہیں کیا گیا۔ سانحہ ساہیوال پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی جہاں ایک طرف واقعہ کی تحقیقات کرنے اور حقائق کا پتہ چلانے میں مصروف ہیں وہیں دوسری جانب پولیس کے اعلیٰ افسران کا محکمہ داخلہ پر دباؤ ڈالے جانے کا انکشاف ہوا۔

یس افسران اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کے لیے کہہ رہے ہیں کہ اگر ایک آپریشن غلط بھی ہو گیا تو اس میں کیا بڑی بات ہو گئی ؟دوسری جانب جے آئی ٹی نے مقتول ذیشان اور اور پولیس کی گاڑیاں معائنہ کیلئے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی منتقل کر دی ہیں ۔ گولیوں کے خول فرانزک ایجنسی کو پہلے ہی موصول ہو چکے ہیں۔ ماہرین گولیوں کی ڈائریکشن کا بھی تعین کرینگے ۔

یہ بھی پرھیں.سانحہ ساہیوال کے مقتول خلیل کے خاندان کی صدرسے ملاقات طے نہیں تھی

جے آئی ٹی نے تحقیقات کے سلسلہ میں اب تک سانحہ ساہیوال میں ملوث سات پولیس اہلکاروں اور 13 عینی شاہدین کے بیانات بھی قلمبند کر لئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت اور جے آئی ٹی نے تاحال واقعہ میں استعمال ہونیوالی سی ٹی ڈی (CTD) رائفلز اور دیگر اسلحہ فرانزک معائنہ کیلئے نہیں بھجوایا۔جے آئی ٹی نے سانحہ کے مقتولین کے ورثاء سے بھی بیانات قلمبند کرنے تھے لیکن انکے اسلام آباد جانے کے باعث وہ ان سے ملاقات نہیں کر سکی جبکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب تک صرف سانحہ کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں جبکہ ایس ایس پی جواد قمر کو سوائے عہدے سے ہٹانے کے تاحال ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
علاوہ ازیں سانحہ ساہیوال کی جوڈیشل انکوائری کے لیے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے پنجاب حکومت کو خط ارسال کردیا۔ چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ کو خط میں مطالبہ کیا گیا کہ سانحہ ساہیوال کے اصل حقائق جاننے کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔ کسی بھی سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کا اختیار حکومت کے پاس ہے ۔ (CTD)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں